سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 66
۶۶ دیکھتے تھے۔عرب میں طلاق کا عام رواج تھا اور خاوند جب چاہتا بیوی کو الگ کر سکتا تھا۔لڑکیوں کو زندہ دفن کر دینے کی رسم بھی عرب میں تھی۔مگر یہ رسم خاص خاص قبائل میں تھی۔عام نہ تھی۔لڑکیوں کو ورثہ نہ ملتا تھا اور نہ ہی بیوی کوشنی کہ اگر کسی شخص کی نرینہ اولا د نہ ہوتی تھی تو اس کے مرنے پر سب تر کہ اُس کا بھائی لے جاتا تھا اور اس کی بیوی اور لڑکیاں یونہی خالی ہاتھ رہ جاتی تھیں۔رسوم اور رسوم پرستی یہ ابھی بیان کیا جائے گا کہ ظہور اسلام کے وقت عرب میں بہت سے مذاہب پائے جاتے تھے۔جو مختلف عقائد اور مختلف خیالات کے پیرو تھے۔لیکن عادات اور قومی اخلاق کے لحاظ سے تمام عرب گویا ایک قوم کے حکم میں تھا اور جو جو عادات اور اخلاق ہم نے اوپر بیان کی ہیں وہ سب میں نمایاں طور پر پائی جاتی تھیں؛ چنانچہ زمانہ جاہلیت میں یثرب میں ایک یہودی رئیس فطیون تھا اس کمبخت کا یہ عام حکم تھا کہ شہر میں جس لڑکی کی بھی شادی ہو وہ پہلے اس کے گھر میں آوے۔چنانچہ مدینہ کے اکثر یہودی اپنی ناکتخد الڑکیاں شادی کے وقت پہلے اس کے گھر بھیجتے تھے اور اس کے بعد وہ کسی اور کے واسطے جائز ہوتی تھیں۔آخر ایک غیرت مند شخص نے فطیون کو قتل کر ڈالا۔اسی طرح اس زمانہ میں عیسائیوں کی حالت بھی بہت خراب تھی جیسا کہ میور صاحب نے بھی اپنی کتاب میں تسلیم کیا ہے۔غرض عرب میں کیا بت پرست، کیا یہودی اور کیا نصاری سب اخلاق و عادات اور قوی خصائل کے لحاظ سے ایک ہی رنگ میں رنگین تھے اور قتل و غارت اور قمار بازی ، زنا ، شراب خوری کا بازار ہر طرف گرم تھا۔اسی طرح رسوم کی پابندی بھی سب میں مشترک تھی اور رسوم پرستی اس درجہ کی تھی کہ مذہب بھی اس کے سامنے بیچ تھا۔عجیب عجیب رسوم ملک میں پھیلی ہوئی تھیں مثلاً ایک تقسیم بالازلام کی رسم تھی۔یعنی ایک قربانی میں دس لوگ حصہ ڈالتے تھے اور پھر اس کی تقسیم حصہ رسدی سے نہ کرتے تھے بلکہ قربانی کے تیروں سے ایک قسم کا قرعہ ڈالا جاتا تھا اور پھر اس طرح جو جو کسی کا حصہ نکلتا تھا وہ اسے مل جاتا تھا اور بعض خالی بھی رہ جاتے تھے۔ہر تیر کا نام اور الگ الگ حصہ مقرر ہوتا تھا۔تیروں سے فال لینے کی رسم بھی عام تھی۔ہر کام کرتے ہوئے تیر سے فال لیتے تھے۔کعبہ میں بھی فال کے تیر رکھے ہوئے تھے اور وہاں جا کر لوگ فال نکالتے تھے۔پرندوں کی اڑان سے بھی فال لینے ل : وفاء الوفاء بحوالہ سیرۃ النبی : لائف آف محمد (ع ) دیبا چه صفحه ۸۳ و اصل کتاب صفحه ۲۰