سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 790 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 790

490 نیکیاں ہیں جن کی تحریک و تحریص میں قرآن وحدیث بھرے پڑے ہیں اور خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ذاتی اسوہ اس معاملہ میں یہ تھا کہ رمضان کے مہینہ میں جو غریبوں کی ضروریات کا خاص زمانہ ہوتا ہے اور اس کے بعد عید بھی آنے والے ہوتی ہے آپ کا ہاتھ غریبوں اور محتاجوں کی امداد میں اس طرح چلتا تھا جس طرح ایک تیز آندھی چلتی ہے جو کسی روک کو خیال میں نہیں لاتی۔الغرض زکوۃ کے جبری نظام اور دوسرے صدقات کے طوعی نظام کے ذریعہ اسلام نے امیروں کی دولت کو کاٹ کر غریبوں کو دینے اور اس طرح ملکی دولت کو سمونے کی ایک عظیم الشان مشینری قائم کر رکھی ہے۔تیسرے نمبر پر اسلام کا قانون تجارت ہے جس کی رو سے اسلام میں سودی لین دین ممنوع قرار دیا گیا ہے۔آج دنیا کا سمجھدار طبقہ اس بات کو محسوس کر چکا ہے کہ سود ہی وہ چیز ہے جو ملکی دولت کے توازن کو برباد کرنے کی سب سے زیادہ ذمہ دار ہے کیونکہ اس کے ذریعہ غریبوں کا روپیہ سمٹ سمٹ کر آہستہ آہستہ امیروں کے خزانوں میں جمع ہو جاتا ہے۔۔اور غور کیا جائے تو دراصل سود کی لعنت ہی سرمایہ داری کے پیدا کرنے کی بڑی موجب ہے۔اگر آج سود بند ہو جائے تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ اول تو آہستہ آہستہ ملک کی بڑی بڑی تجارتیں یا تو حکومت کے ہاتھ میں چلی جائیں گی اور چھوٹی چھوٹی مناسب تجارتوں میں تقسیم ہو کر ملک کی دولت کو خود بخودسمودیں گی اور دوسرے امیروں کے لیے غریبوں کے پسینہ کی کمائی پر ڈاکہ ڈالنے کا موقع نہیں رہے گا۔یہ خیال که سودی نظام کے بند ہونے سے تجارت ناممکن ہو جائے گی بالکل غلط اور باطل ہے۔ایسا خیال صرف موجودہ ماحول کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے جب کہ یورپ و امریکہ کے سرمایہ داروں کی نقالی کے نتیجہ میں سود کا جال وسیع ہو چکا ہے۔ورنہ جب سود نہیں تھا اس وقت بھی دنیا کی تجارت چلتی تھی اور انشاء اللہ آئندہ بھی چلے گی اور یہ خیال کہ اسلام میں صرف وہ سود حرام کیا گیا ہے جو بڑی شرح کے مطابق چارج کیا جائے یا جس میں سود در سود کا طریق اختیار کیا جائے محض نفس کا ایک دھو کہ ہے جو اس دلدل میں پھنس جانے کی وجہ سے کمزور لوگوں کے دل میں پیدا ہوتا ہے ورنہ اسلام نے ہر قسم کا سود منع کیا ہے اور حق بھی یہی ہے کہ جو چیز ضرر رساں ہے وہ بہر حال ضرر رساں ہے خواہ وہ تھوڑی مقدار میں ہو یا بڑی مقدار میں۔چوتھے نمبر پر اسلام نے جوئے کی قسم کی تمام آمد نیوں کو جن کی بنیاد محض اتفاق پر ہوتی ہے منع صحیح بخاری ۲ : سورة البقرة آیات ۲۷۵ تا ۲۸۱ و ترمذی ابواب البيوع