سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 789
۷۸۹ دوسرے طوعی۔جبری قانون نظام زکوۃ سے تعلق رکھتا ہے جس کے ذریعہ امیر لوگوں کی دولت پر حالات کے اختلاف کے ساتھ اڑھائی (۲) فی صد شرح سے لے کر ہیں فی صد شرح تک خاص ٹیکس عائد کیا گیا ہے اور اس ٹیکس کے ذریعہ جو روپیہ حاصل ہوتا ہے وہ حکومت وقت یا نظام قومی کی نگرانی کے ماتحت غریبوں اور مسکینوں وغیرہ میں تقسیم کر دیا جاتا ہے اور ہمارے آقا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس ٹیکس کی غرض و غایت ان الفاظ میں بیان فرماتے ہیں کہ: تُؤْخَذُ مِنْ أَغْنِيَائِهِمْ وَتُرَدُّ عَلَى فُقَرَائِهِمْ یعنی زکوۃ کے نظام کا مقصد یہ ہے کہ امیروں کے اموال کا ایک حصہ کاٹ کر غریبوں کی طرف لوٹایا جائے۔“ اس حدیث میں لوٹایا جائے“ کے پر حکمت الفاظ کے استعمال کرنے میں یہ لطیف اشارہ کرنا بھی مقصود ہے کہ زکوۃ کا ٹیکس کوئی صدقہ و خیرات نہیں ہے جو غریبوں کو بطور احسان دیا جاتا ہے بلکہ وہ امیروں کی دولت میں غریبوں کا ابدی حق ہے جو انہیں طبعی طریق پر حاصل ہے کیونکہ جیسا کہ ہر شخص سمجھ سکتا ہے۔ہر مال کے پیدا کرنے میں غریبوں اور مزدوروں کا بھی کافی دخل ہوتا ہے۔زکوۃ کے نظام کے متعلق یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ خدائے حکیم نے ایسے اموال پر زکوۃ کی شرح زیادہ مقرر فرمائی ہے جو تجارت کے چکر میں نہیں آتے۔چنانچہ بند ذخائر پر زکوۃ کی شرح ہیں فی صد ر کھی گئی ہے۔اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ جہاں تجارت یا صنعت میں لگے ہوئے روپے میں سے غریب اور مزدور پیشہ لوگ دوسرے طریق پر بھی کچھ نہ کچھ حصہ لے لیتے ہیں وہاں جمع شدہ ذخائر میں انہیں کوئی حصہ نہیں ملتا۔اس لیے ذخائر میں زکوۃ کی شرح بہت بڑھا کر رکھی گئی ہے۔امداد باہمی کے نظام کا دوسرا حصہ طوعی نظام کی صورت میں قائم کیا گیا ہے اس نظام کے ماتحت اسلام نے غریبوں اور بے کس لوگوں کی امداد پر اتنا زور دیا ہے کہ حق یہ ہے کہ ایک نیک اور خدا ترس انسان کے لیے یہ صورت بھی قریباً جبری نظام کا رنگ اختیار کر لیتی ہے۔گو ذاتی نیکی کے معیار کو بلند کرنے اور اخوت کے جذبات کو ترقی دینے کے لیے اسے قانون کی صورت نہیں دی گئی۔بھوکوں کو کھانا کھلانا ہنگوں کو کپڑا پہنا نا، مقروضوں کو قرض کی مصیبت سے نجات دلانا ، بیماروں کے لیے علاج کا انتظام کرانا ،غریب مسافروں کو ان کی منزل مقصود تک پہنچانا ، قیموں اور بیواؤں کو خاک آلود ہونے سے بچانا وغیرہ وغیرہ ایسی بخاری کتاب الزكوة