سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 65 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 65

حقارت کی نظر سے دیکھتے تھے۔دشمن کے ساتھ معاملہ کرنے میں عرب لوگ عموماً ظالم اور سخت گیر تھے۔ثار کا خونی عقیدہ اوپر بیان ہو چکا ہے۔یہ گویا عرب کے دین و مذہب کا ئجز واعظم تھا۔تار کے مقابلہ میں خدائی قضاء وقدر کی بھی پروانہ تھی ایک شاعر کہتا ہے: سَاغُسِلُ عَنِّي الْعَارَ بِالسَّيْفِ جَالِبًا عَلَى قَضَاءُ اللَّهِ مَا كَانَ جَالِبًا میں اپنے اوپر سے شرم و عار کو ضرور تلوار کیسا تھ دھووں گا، پھر اللہ کی قضاء مجھ پر جو چاہے لاوے مجھے پروانہیں لے عرب لوگ نہایت ذکی اور ذہین تھے اور ان کا حافظہ غضب کا تیز تھا چنانچہ قدیم سے ان کا دستور تھا کہ اپنی تمام قومی اور خاندانی روایت کو یا در رکھتے تھے اور مختلف موقعوں پر سناتے رہتے تھے۔جنگ میں جب دو جانباز سپاہی مقابلہ کے واسطے آگے بڑھتے تھے تو پہلے ایک دوسرے کا حسب نسب ضرور دریافت کرتے تھے اور اگر کوئی نیچ ذات کا ہوتا تھا تو اس کو اپنے مقابلہ میں آنے کی اجازت نہ دیتے تھے۔عربوں میں سال اور ماہ چاند کی گردش کے حساب سے شمار کئے جاتے تھے اور بارہ مہینوں میں سے پہلا، ساتواں اور آخری دو مہینے عزت کے مہینے سمجھے جاتے تھے جن میں ہر قسم کا قتال ممنوع تھا، لیکن بعض اوقات اپنی سہولت کے واسطے عرب انہیں آگے پیچھے بھی کر لیتے تھے تا کہ اگر کوئی ضرورت آ پڑے تو ان مہینوں میں بھی بلاخوف گناہ جنگ وجدال کر سکیں۔اس رسم کونسی کہتے تھے۔عورت کی حیثیت عرب میں عورت کی حالت بحیثیت مجموعی اچھی نہ تھی۔بیشک عموماً عورت کو اپنا خاوند خود انتخاب کرنے کا اختیار تھا مگر اس اختیار کے بعد وہ عملاً بے اختیار تھی۔ہاں ہوشیار عورتیں اپنے خاوندوں پر اچھا اثر رکھتی تھیں۔جنگ میں عورتوں کے ساتھ جانے کا بیان کیا جا چکا ہے۔ان کا کام مردوں کو غیرت دلانا اور زخمیوں کی خبر گیری کرنا تھا۔عور تیں شعر بھی کہتی تھیں ؛ چنانچہ خنساء زمانہ جاہلیت کی ایک مشہور شاعرہ ہے جو بعد میں مسلمان ہوگئی تھی سکے عورتوں میں پردے کی رسم نہ تھی بلکہ وہ کھلی پھرتی تھیں۔تعدد ازدواج کی کوئی حد نہ تھی اور جتنی بیویاں کوئی شخص رکھنی چاہتا تھار کھتا تھا۔بعض اوقات باپ کی منکوحہ پر بیٹا وارث کے طور پر قبضہ کر لیتا تھا اور دو حقیقی بہنوں سے بھی ایک وقت میں شادی کر لیتے تھے۔مگر ان باتوں کو اشراف عرب اچھی نظر سے نہ : دیوان الحماسه : ابن ہشام : اسد الغابه