سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 781 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 781

ZMI جائیں اور دراصل مساوات کی روح زیادہ تر تمدنی معاملات میں ہی بگڑنی شروع ہوتی ہے۔کیونکہ اس قسم کے تمدنی معاملات کا اثر براہ راست دل پر پڑتا ہے۔اسی طرح آپ نے یہ تاکید بھی فرمائی ہے کہ اگر کوئی غریب کسی امیر کی دعوت کرے تو امیر کے لئے ہرگز مناسب نہیں کہ وہ اپنی امارت کے گھمنڈ میں آکر یا یہ خیال کر کے کہ غریب کے ہاں کا کھانا اس کی عادت اور مزاج کے مطابق نہیں ہوگا غریب کی دعوت قبول کرنے سے انکار کر دے۔چنانچہ اس قسم کی دعوتوں کا رستہ کھولنے کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: لَوُ دُعِيْتُ إِلَى كُرَاعٍ لَا جَبْتُ یعنی اگر کوئی غریب شخص کسی بکری یا بھیڑ کا ایک پایہ پکا کر بھی مجھے دعوت میں بلائے تو میں اس کی دعوت کو ضرور قبول کروں گا۔“ یا در ہے کہ اس جگہ کواع کے معنی پائے کے نچلے حصہ کے ہیں جو نوں سے نیچے ہوتا ہے اور یقینا وہ ایک ادنی قسم کی غذا ہے کیونکہ ٹخنوں کے نیچے کا حصہ قریباً گھر ہی بن جاتا ہے ،لیکن اگر مراع کے معنی پورے پائے کے بھی سمجھے جائیں تو پھر بھی عربوں کی روایات سے یہ ثابت ہے کہ قدیم زمانہ میں عرب لوگ پائے کو اچھی غذا نہیں سمجھتے تھے چنانچہ عربوں میں مشہور محاورہ تھا کہ: لا تُطْعِمِ الْعَبْدَ الْكُرَاعَ فَيَطْمَعُ فِي النَّدَاعِ - یعنی ” اپنے غلام کو پایہ بھی کھانے کو نہ دوور نہ وہ اس سے اوپر نظر اٹھا کر دست و ران کے گوشت کی بھی طمع کرنے لگے گا۔“ بہر حال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث میں اپنا ذاتی اسوہ پیش کر کے مسلمانوں کو تحریک فرمائی ہے کہ خواہ دعوت کرنے والا کتنا ہی غریب ہو اس کی دعوت کو غربت کی وجہ سے رد نہ کرو ورنہ یا درکھو کہ تمہاری سوسائٹی میں ایسار خنہ پیدا ہو جائے گا جو آہستہ آہستہ سب کو تباہ کر کے رکھ دے گا۔مجلسوں میں مل کر بیٹھنے کے متعلق بھی اسلام یہی سنہری تعلیم دیتا ہے کہ یہ نہیں ہونا چاہئے کہ اگر کوئی بڑا شخص بعد میں آئے تو کسی چھوٹے شخص کو اٹھا کر اس کی جگہ اسے دے دی جائے۔چنانچہ حدیث میں آتا ہے: نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اَنْ يُقَامَ الرَّجُلُ مِنْ مَجْلِسِهِ وَيُجْلَسُ فِيهِ آخَرُ بخاری کتاب النکاح : اقرب الموارو : تاج العروس