سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 779
229 بڑے رئیس جبلہ بن ایم نامی نے جو مسلمان ہو چکا تھا کسی غریب مسلمان کو غصہ میں آکر تھپڑ مار دیا۔جب حضرت عمر کو اس واقعہ کا علم ہوا تو آپ نے جبلہ کو بلا کر فر مایا۔جبلہ! میں سنتا ہوں کہ تم نے ایک غریب مسلمان کو تھپڑ مارا ہے۔اگر تم نے ایسی حرکت کی ہے تو خدا کی قسم تم سے اس کا بدلہ لیا جائے گا۔‘اس پر جبلہ جس میں غالباً ابھی تک جاہلیت والے تکبر کی رگ باقی تھی مغرور ہوکر مرتد ہو گیا۔ملکی عہدوں کی تقسیم میں مکمل مساوات عدالتی حقوق کے سوال کے بعد عہدوں اور ذمہ داریوں کی تقسیم کا سوال آتا ہے اور ایک لحاظ سے یہ سوال سب سے زیادہ اہم ہے سو اس کے متعلق قرآن شریف فرماتا ہے: إِنَّ اللهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَنتِ إِلَى أَهْلِهَا وَإِذَا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ یعنی ”اے مسلمانو! اللہ تعالیٰ تمہیں حکم دیتا ہے کہ قومی اور ملکی عہدوں کی تقسیم کے معاملہ میں جو خدا کے نزدیک ایک مقدس امانت کا رنگ رکھتے ہیں صرف ذاتی قابلیت اور ذاتی اہلیت کو دیکھا کرو اور جو شخص بھی اپنے ذاتی اوصاف کے لحاظ سے کسی عہدہ کا اہل ہوا سے وہ عہدہ سپر دکیا کرو خواہ وہ کوئی ہو اور پھر اے مسلمانو! جب تم کسی عہدہ یا ذمہ داری کے کام پر مقرر کئے جاؤ تو تمہارا فرض ہے کہ لوگوں میں کامل عدل وانصاف کا معاملہ کرو۔“ یہ زریں تعلیم ہمیشہ اسلامی حکومتوں کا طرہ امتیاز رہی ہے اور یہی وجہ ہے کہ اسلامی سوسائٹی میں بعض بظاہر ادنیٰ سے ادنیٰ لوگ ترقی کر کے عروج کے کمال تک پہنچے ہیں چنانچہ ہم دیکھ چکے ہیں کہ کس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے زید بن حارثہ کو جو ایک آزاد شدہ غلام تھے کئی فوجی دستوں کا امیر مقررفرمایا اور پھر زید کی وفات کے بعد آپ نے ان کے نوجوان فرزند اسامہ بن زید کو بھی ایک بڑی فوج کا امیر مقرر فرمایا جس میں بعض بڑے بڑے صحابہ شامل تھے جو قدیم دستور کے مطابق گویا عرب سوسائٹی میں پہاڑ کی طرح سمجھے جاتے تھے اور جب اس پر بعض نا سمجھ نو مسلموں میں چہ میگوئی ہوئی کہ ایک نو جوان غلام زادہ کو ایسے ایسے معمر اور جلیل القدر لوگوں پر امیر مقرر کیا گیا ہے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نہایت غصہ کے ساتھ فرمایا کہ: إِنْ تَطْعِنُوا فِى أَمَارَتِهِ فَقَدْ كُنتُمْ تَطْعِنُونَ فِي آمَارَةِ أَبِيهِ مِنْ قَبْلُ وَايْمُ اللَّهِ إِنْ كَانَ فتوح البلدان حالات جنگ یرموک : سورة النساء : ۵۹