سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 770 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 770

۷۷٠ مگرا بھی زید مدینہ میں پہنچ نہیں تھے کہ قبیلہ بنوضیب کے لوگوں کو جو قبیلہ بنو جذام کی شاخ تھے زید کی اس مہم کی خبر پہنچ گئی اور وہ اپنے رئیس رفاعہ بن زید کی معیت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا یا رسول اللہ ! ہم مسلمان ہو چکے ہیں اور ہماری بقیہ قوم کے لئے امن کی تحریر ہو چکی ہے تو پھر ہمارے قبیلہ کو اس حملہ میں کیوں شامل کیا گیا ہے۔آپ نے فرمایا ہاں یہ درست ہے مگر زید کو اس کا علم نہیں تھا اور پھر جو لوگ اس موقع پر مارے گئے تھے ان کے متعلق آپ نے بار بارافسوس کا اظہار کیا۔اس پر رفاعہ کے ساتھی ابوزید نے کہا یا رسول اللہ ! جولوگ مارے گئے ہیں ان کے متعلق ہمارا کوئی مطالبہ نہیں یہ ایک غلط فہمی کا حادثہ تھا جو ہو گیا۔مگر جو لوگ زندہ ہیں اور جو ساز وسامان زید نے ہمارے قبیلہ سے پکڑا ہے وہ ہمیں واپس مل جانا چاہئے۔آپ نے فرمایا ہاں یہ بالکل درست ہے اور آپ نے فوراً حضرت علی کو زید کی طرف روانہ فرمایا اور بطور نشانی کے انہیں اپنی تلوار عنایت فرمائی اور زید کو کہلا بھیجا کہ اس قبیلہ کے جو قیدی اور اموال پکڑے گئے ہیں وہ چھوڑ دئے جائیں۔زید نے یہ حکم پاتے ہی فوراً سارے قیدیوں کو چھوڑ دیا اور غنیمت کا مال بھی واپس لوٹا دیا یا اس سریہ کی تاریخ کے متعلق ایک اشکال ہے جس کا ذکر ضروری ہے۔ابن سعد اور اس کی اتباع میں دیگر اہل سیر نے اس سریہ کی تاریخ جمادی الآخرۃ 1 ہجری لکھی ہے اور اس کو صحیح قرار دیا ہے مگر علامہ ابن قیم نے زاد المعاد میں تصریح کی ہے کہ یہ سریہ ۷ ہجری میں صلح حدیبیہ کے بعد ہوا تھا۔اور غالباً ابن قیم کے قول کی بنیاد یہ ہے کہ اس سریہ کی وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ دحیہ کلبی قیصر سے مل کر مدینہ کو واپس آرہے تھے کہ انہیں راستہ میں بنو جذام نے لوٹ لیا اور یہ مسلّم ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دحیہ کو قیصر کی طرف خط دے کر صلح حدیبیہ کے بعد بھجوایا تھا اس لئے یہ واقعہ کسی صورت میں حدیبیہ سے پہلے نہیں ہوسکتا۔یہ دلیل اپنی ذات میں بالکل صاف اور واضح ہے اور اس کی روشنی میں ابن سعد کی روایت یقیناً قابل رد قرار پاتی ہے مگر خاکسار کی رائے میں ایک تو جید ایسی ہے جسے علامہ ابن قیم نے نظر انداز کر دیا ہے اور وہ یہ کہ ممکن ہے کہ قیصر کی ملاقات کے لئے دحیہ شام میں دو دفعہ گئے ہوں۔یعنی پہلی دفعہ وہ صلح حدیبیہ سے قبل از خود تجارتی غرض کے لئے گئے ہوں اور قیصر سے بھی ملے ہوں اور دوسری دفعہ صلح حدیبیہ کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خط لے کر گئے ہوں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں قیصر کی طرف ابن سعد وزرقانی یہ نام رحیہ اور رحیہ دونوں طرح آتا ہے زادالمعاد مصنفہ ابن قیم جلد ا صفحه ۳۸۰