سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 755
۷۵۵ بنو ثعلبہ آباد تھے۔محمد بن مسلمہ اور ان کے دس ساتھی رات کے وقت وہاں پہنچے تو دیکھا کہ اس قبیلہ کے ایک سونو جوان جنگ کے لئے تیار بیٹھے ہیں۔صحابہ کی جماعت سے یہ پارٹی تعداد میں دس گنے زیادہ تھی مگر تعداد کا فرق اسلامی ضابطہ حرب میں چنداں قابل لحاظ نہیں تھا۔محمد بن مسلمہ نے فوراً اس لشکر کے سامنے صف آرائی کر لی اور فریقین کے درمیان رات کی تاریکی میں خوب تیراندازی ہوئی۔اس کے بعد کفار نے صحابہ کی اس مٹھی بھر جماعت پر دھاوا بول دیا اور چونکہ ان کی تعداد بہت زیادہ تھی ایک آن کی آن میں یہ دس فدایان اسلام خاک پر تھے۔محمد بن مسلمہ کے ساتھی تو سب کے سب شہید ہو گئے مگر خود محمد بن مسلمہ بچ گئے کیونکہ کفار نے انہیں دوسروں کی طرح مردہ سمجھ کر چھوڑ دیا اور ان کے کپڑے وغیرہ اتار کر لے گئے۔غالباً محمد بن مسلمہ بھی وہاں پڑے پڑے فوت ہو جاتے مگر حسن اتفاق سے ایک مسلمان کا وہاں سے گزر ہو گیا اور اس نے محمد بن مسلمہ کو پہچان کر انہیں اٹھا کر مدینہ پہنچادیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جب ان حالات کا علم ہوا تو آپ نے ابو عبیدہ بن الجراح کو جو قریش میں سے تھے اور کبار صحابہ میں شمار ہوتے تھے محمد بن مسلمہ کے انتقام کے لئے ذوالقصہ کی طرف روانہ فرمایا اور چونکہ اس عرصہ میں یہ بھی اطلاع موصول ہو چکی تھی کہ قبیلہ بنو ثعلبہ کے لوگ مدینہ کے مضافات پر حملہ کا ارادہ رکھتے ہیں اس لئے آپ نے ابو عبیدہ کی کمان میں چالیس مستعد صحابہ کی جماعت بھجوائی اور حکم دیا کہ راتوں رات سفر کر کے صبح کے وقت وہاں پہنچ جائیں۔ابوعبیدہ نے تعمیل ارشاد میں یلغار کر کے عین صبح کی نماز کے وقت انہیں جاد بایا اور وہ اس اچانک حملہ سے گھبرا کر تھوڑے سے مقابلہ کے بعد بھاگ نکلے اور قریب کی پہاڑیوں میں غائب ہو گئے۔ابو عبیدہ نے مال غنیمت پر قبضہ کیا اور مدینہ کی طرف واپس لوٹ آئے ہے اس مہم میں جن دو صحابہ کا ذکر ہے یعنی محمد بن مسلمہ اور ابو عبیدہ بن الجراح وہ دونوں کبار صحابہ میں سے تھے۔محمد بن مسلمہ اپنے ذاتی اوصاف اور قابلیت کے علاوہ قتل کعب بن اشرف یہودی کے ہیرو تھے کیونکہ یہ مفسدا نہی کے ہاتھ سے اپنے کیفر کردار کو پہنچا تھا۔محمد بن مسلمہ انصار کے قبیلہ اوس سے تعلق رکھتے تھے اور حضرت عمر کی خلافت میں ان کے خاص معتمد سمجھے جاتے تھے۔چنانچہ حضرت عمر عموماً انہی کو اپنے عمال کی شکایتوں کی تحقیق کے لئے بھجوایا کرتے تھے۔حضرت عثمان کی وفات کے بعد جب مسلمانوں میں اندرونی فتنوں کا دروازہ کھلا تو محمد بن مسلمہ نے اپنی تلوار کو ایک پتھر پر تو ڑ کر اپنے ہاتھ میں صرف ایک چھڑی لے لی ابن سعد جلد ۲ حالات سریہ ذوالقصه