سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 754 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 754

۷۵۴ انصاری شخص نے عرض کیا۔یا رسول اللہ ! میرے لئے بھی یہ دعا فرمائیں اس پر آپ نے فرمایا: سَبَقَكَ بِهَا عُكَاشَةُ یعنی اب تو عکاشہ تم پر اس معاملہ میں بازی لے جاچکا ہے۔“ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس کا یہ ایک بظاہر چھوٹا سا واقعہ اپنے اندر بہت سے معارف کا خزانہ رکھتا ہے کیونکہ اول تو اس سے یہ علم حاصل ہوتا ہے کہ امت محمدیہ پر اللہ تعالیٰ کا اس درجہ فضل و کرم ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا روحانی فیض اس کمال کو پہنچا ہوا ہے کہ آپ کی امت میں سے ستر ہزار آدمی ایسا ہو گا جو اپنے نمایاں روحانی مقام اور خدا کے خاص فضل وکرم کی وجہ سے گویا قیامت کے دن حساب و کتاب کی پریشانی سے بالا سمجھا جائے گا۔دوسرے اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کے دربار میں ایسا قرب حاصل ہے کہ آپ کی روحانی توجہ پر خدا تعالیٰ نے فوراً بذریعہ کشف یا القاء آپ کو یہ علم دے دیا کہ عکاشہ بھی اس ستر ہزار کے پاک گروہ میں شامل ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ عکاشہ پہلے اس گروہ میں شامل نہ ہو مگر آپ کی دعا کے نتیجہ میں خدا نے اسے یہ شرف عطا کر دیا ہو۔تیسرے اس واقعہ سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کا اس درجہ ادب ملحوظ تھا اور آپ اپنی امت میں جہد و عمل کو اس درجہ ترقی دینا چاہتے تھے کہ جب عکاشہ کے بعد ایک دوسرے شخص نے آپ سے اسی قسم کی دعا کی درخواست کی تو آپ نے اس اخص روحانی مقام کے پیش نظر جو اس پاک گروہ کو حاصل ہے مزید انفرادی دعا سے انکار کر دیا تا کہ مسلمانوں کو تقویٰ اور ایمان اور عمل صالح میں ترقی کرنے کی طرف توجہ رہے۔چوتھے اس سے آپ کے اعلیٰ اخلاق پر بھی غیر معمولی روشنی پڑتی ہے کیونکہ آپ نے انکار ایسے رنگ میں نہیں کیا۔جس سے سوال کرنے والے انصاری کی دل شکنی ہو بلکہ ایک نہایت لطیف رنگ میں بات کو ٹال گئے۔سریہ محمد بن مسلمہ بطرف ذوالقصہ ربیع الآخر ۶ ہجری ربيع الآخر کے مہینہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے محمد بن مسلمہ انصاری کو ذوالقصہ کی طرف روانہ فرمایا جو مدینہ سے چوبیس میل کے فاصلہ پر تھا اور جہاں ان ایام میں : بخاری کتاب الرقاق باب يَدْخُلُ الْجَنَّةَ سَبْعُونَ الْفَا بِغَيْرِ حِسَابِ : یہ بھی ممکن ہے کہ ستر ہزار سے معین تعداد مراد نہ ہو، بلکہ غیر معمولی طور پر بھاری جماعت مراد ہو۔کیونکہ عربی زبان میں ستر کا لفظ بھاری کثرت یا کامل تعداد کے اظہار کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے۔