سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 731 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 731

۷۳۱ عامتہ الناس کے مشورہ کے ساتھ۔دوسرے یہ کہ جب کوئی شخص امارت کے عہدہ پر قائم ہو جاوے تو اس کا طریق حکومت کیا ہونا چاہئے آیا خود مختارانہ اور استبدادی یا کسی قانون کے ماتحت اور لوگوں کی رائے اور مشورہ کے ساتھ۔تیسرے یہ کہ لوگوں کا امیر کے متعلق کیا رویہ ہو۔آیا وہ اس کے ساتھ انتہائی حد تک تعاون اور اطاعت کا طریق اختیار کریں یا کہ ہر بات پر جو ان کی مرضی کے خلاف ہو بگڑیں اور اس کے رستے میں روکیں ڈالیں اور بزعم خود جب بھی اپنے حقوق خطرہ میں دیکھیں یا امیر کا کوئی کام قابل اعتراض سمجھیں تو شور کرتے ہوئے اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔چوتھے یہ کہ اگر واقعی امیر کا رویہ صریح طور پر ناجائز اور قابل اعتراض ہو اور وہ اپنے اس رویہ میں نا قابل برداشت انتہا کو پہنچ جاوے اور اسے اپنے ظالمانہ طریق پر اصرار ہو تو پھر اس کے متعلق کیا طریق اختیار کیا جاوے۔ان چاروں اصولی مسائل میں اسلام نے وہ تعلیم پیش کی ہے جو بہترین سیاست کی جان ہے اور اس میں بنی نوع انسان کی بہبودی اور دنیا کے امن وامان کے لئے ایک ایسی بنیاد قائم کر دی گئی ہے جس پر قائم رہتے ہوئے اول تو حاکم و محکوم کے تعلقات بگڑ ہی نہیں سکتے اور کبھی بگڑیں بھی تو ان کے خطرناک اور ضرررساں نتائج سے ملک محفوظ رہتا ہے اور یہ تعلیم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت دی جبکہ دنیا میں بیشتر طور پر نسلی اور استبدادی حکومت کا دور دورہ تھا اور اکثر ممالک نیابتی اور مشورہ کی حکومت کے خیال تک سے نا آشنا تھے۔غیر مسلموں کے ساتھ تعلقات اس نوٹ کو ختم کرنے سے قبل اس تعلیم کا ذکر کرنا بھی بے موقع نہ ہوگا جو اسلام نے غیر مسلم حکومتوں یا اسلامی حکومت کے اندر کی غیر مسلم رعایا کے ساتھ معاملہ کرنے کے بارے میں دی ہے۔سواس معاملہ میں اسلام سب سے پہلے تو یہ اصول بیان کرتا ہے کہ عدل وانصاف کا معیار سب قوموں کے ساتھ ایک سا ہونا چاہئے اور ایسا نہیں ہونا چاہئے اپنوں کے ساتھ تو عدل وانصاف کا معاملہ کیا جاوے اور جب دوسروں کا سوال ہو تو اس اصول کو بھلا دیا جاوے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: يَايُّهَا الَّذِينَ أَمَنُوا كُونُوا قَوْمِينَ لِلَّهِ شُهَدَاءَ بِالْقِسْطِ وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَانُ قَوْمٍ عَلَى أَلَّا تَعْدِلُوا اِعْدِلُوا هُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوَى وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ یعنی ”اے مسلمانو! تم خدا کی خاطر دنیا میں نیکی اور عدل کے قائم کرنے کے لئے کھڑے : سورۃ مائده : ۹