سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 727
۷۲۷ پائے اور اس کی امارت کو اس حد تک ضرر رساں سمجھے کہ اس کے توڑنے کے لیے ملک کے امن اور جماعت کے اتحاد تک کو خطرے میں ڈالنا ضروری خیال کرے تو اسے چاہیے کہ ایسے امیر کی مملکت سے باہر نکل جاوے اور پھر جس طرح مناسب ہو اس کے عزل کے لیے ساعی ہو۔اس جگہ طبعاً یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر کوئی امیر لوگوں کو باہر نکل جانے سے جبر اردو کے تو پھر کیا طریق اختیار کیا جاوے تو اس کا یہ جواب ہے کہ جیسا کہ قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ اصولی طور پر فرماتا ہے کہ لَا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا ل یعنی انسان صرف اس حد تک مکلف ہے جس حد تک اس کی طاقت ہے اور جیسا کہ بنی اسرائیل کے واقعہ میں خدائی اشارہ پایا جاتا ہے جہاں خدا فرما تا ہے کہ فرعون کا بنی اسرائیل کے تعاقب میں جا کر ان کو خروج سے جبراً روکنے کی کوشش کرنا نا جائز اور خدائی قانون سے بغاوت کے ہم معنی تھا۔اس قسم کی صورت میں جو خود امیر کی طرف سے پیدا کی جاوے ملک کے اندر رہتے ہوئے بھی ظالم امیر کے خلاف سراٹھانا جائز سمجھا جائے گا۔کیا امارت کا حق صرف قریش کے ساتھ مخصوص ہے؟ اسلامی اصول حکومت کی بحث کی ضمن میں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ آیا اسلامی تعلیم کی رو سے خلیفہ یا امیر کے لیے کسی خاص قوم میں سے ہونا تو ضروری نہیں ہے؟ یہ سوال خصوصیت سے اس لیے پیدا ہوتا ہے کہ بعض احادیث میں یہ مذکور ہوا ہے کہ خلفاء قریش میں سے ہوں گے جس سے بعض لوگوں نے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ گویا خلیفہ یا امیر کے لیے قریشی ہونا ضروری ہے مگر یہ خیال بالکل غلط اور بے بنیاد ہے۔پہلی دلیل جو اس بات کو غلط ثابت کرتی ہے یہ ہے کہ اسلام میں اصولاً قومی یا نسلی خصوصیات کو دینی یا سیاسی حقوق کی بنیاد نہیں تسلیم کیا گیا۔بالفاظ دیگر اسلام میں ان معنوں کے لحاظ سے کوئی ذاتیں نہیں کہ فلاں ذات کو یہ حقوق حاصل ہوں گے اور فلاں کو یہ بلکہ اس میں ذاتوں اور قوموں کو صرف تعارف اور شناخت کا ایک ذریعہ رکھا گیا ہے اور اس سے بڑھ کر کچھ نہیں۔چنانچہ قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِّنْ قَوْمٍ عَلَى أَنْ يَكُونُوا خَيْرًا مِنْهُمْ وَ جَعَلْنَكُمْ شُعُوبًا وَقَبَابِلَ لِتَعَارَفُوا إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَنفُسِكُمْ یعنی اے مسلمانو! تمہارے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ ایک قوم دوسری قوم پر اپنی بڑائی بیان کرے یا دوسری : سورة بقره : ۲۸۷ : سورة حجرات : ۱۴ : سورۃ یونس : ۹۱ : سورة حجرات : ۱۲