سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 718
ZIA کہ حضرت عبدالرحمن بن عوف نے جو اس شوری کے صدر تھے جس نے حضرت عثمان کی خلافت کا فیصلہ کیا اپنے طور پر بہت سے اہل الرائے صحابہ سے مشورہ کر لیا تھا اور رائے عامہ کوٹو لنے کے بعد خلافت کا فیصلہ کیا گیا تھا۔اور پھر یہ کہ اس وقت حالات ایسے تھے کہ اگر اس معاملہ کو کھلے طریق پر رائے عامہ پر چھوڑا جاتا تو ممکن تھا کہ کوئی فتنہ کی صورت پیدا ہو جاتی۔علاوہ ازیں حضرت عمرؓ نے یہ بھی تصریح کردی تھی کہ گو میرے لڑکے کو مشورہ میں شامل کیا جاوے مگر اسے خلافت کا حق نہیں ہو گا۔پھر یہ بھی یا درکھنا چاہئے کہ حضرت عمرہ کی طرح حضرت عثمان کی خلافت کے متعلق بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی تھی۔اس لئے ان کی خلافت پر کسی مسلمان کو اعتراض نہیں ہوا۔بنوامیہ کی خلافت صحیح اسلامی خلافت نہ تھی اب رہا ملوک بنوامیہ اور بنوعباس کا سوال۔سوان کا طریق خلافت واقعی اسلامی طریق کے خلاف تھا اور محققین اسلام نے کبھی بھی ان کی امارت کو اسلامی طریق کی امارت نہیں سمجھا اس لئے وہ قابل حجت نہیں ہے۔تاریخ و حدیث میں صراحت کے ساتھ ذکر آتا ہے کہ جب امیر معاویہ نے بعض غلط مشوروں میں آکر پہلی دفعہ اسلام میں یہ بدعت جاری کرنی چاہی یعنی جمہور سے حق انتخاب عملاً چھین کر اپنے بیٹے یزید کو اپنی زندگی میں ہی اپنا جانشین مقرر کر دینا چاہا تو ان کبار صحابہ میں سے اکثر نے جو اس وقت زندہ تھے ان کی مخالفت کی اور صاف صاف کہہ دیا کہ یہ طریق اسلامی تعلیم کے خلاف ہے کہ خلیفہ کی زندگی میں ہی اس کے بیٹے کے لئے بیعت کا عہد لیا جا رہا ہے۔مگر امیر معاویہ نے نہ مانا اور عوام کا سہارا ڈھونڈ کر یزید کو اپنا جانشین مقرر کر دیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جب امیر معاویہ فوت ہو گئے تو جو تھوڑے بہت صحابہ اس وقت بقید حیات تھے وہ گوفتنہ کے خیال سے خاموش رہے مگر جیسا کہ تاریخ و حدیث میں اشارے ملتے ہیں انہوں نے دل میں یزید کی امارت کو قبول نہیں کیا بلکہ حضرت امام حسینؓ اور عبد اللہ بن زبیر نے تو اس طریق کو اسلامی تعلیم کے اس قدر خلاف سمجھا کہ باوجود نہایت درجہ کمزوری کی حالت میں ہونے کے وہ یزید کے مقابلہ کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے اور بالآخر اسی جنگ میں امام حسین تو یزید کے زمانہ میں ہی اور عبد اللہ بن زبیر بخاری کتاب الاحکام باب كَيْفَ يُبَايَعُ الْإِمَامُ - نیز طبری و تاریخ کامل حالات استخلاف حضرت عثمان بخاری کتاب فضائل باب قصته البيعة عن عمرو بن میمون سی : مسلم باب من فضائل عثمان وستر مندی بحوالہ مشکوۃ باب مناقب عثمان بخاری تفسیر سورۃ احقاف و فتح الباری جلد ۸ صفحه ۴۴۲ و ۴۴۳ نیز تاریخ کامل جلد ۳ صفحه ۲۱۴ تا ۲۱۸ وطبری حالات ۵۵۶