سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 717 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 717

Z12 خلافت کا نظام بھی ابھی ابتدائی حالت میں تھا حضرت ابو بکڑ نے یہ دیکھتے ہوئے کہ آئندہ خلافت کے لیے سب سے زیادہ موزوں اور اہل شخص حضرت عمر ہیں اور یہ کہ اگر خلیفہ کے انتخاب کو رائے عامہ پر چھوڑ دیا گیا تو ممکن ہے کہ حضرت عمر اپنی طبیعت کی ظاہری تختی کی وجہ سے انتخاب میں نہ آسکیں اور امت محمدیہ میں کسی فتنہ کا دروازہ کھل جاوے، اہل الرائے صحابہ کو بلا کر ان سے مشورہ لیا اور اس مشورہ کے بعد حضرت عمرؓ کو جن کا حضرت ابوبکر کے ساتھ کوئی رشتہ نہیں تھا بلکہ قبیلہ تک جدا تھا اپنا جانشین مقرر کر دیا۔حالانکہ اس وقت حضرت ابو بکر کے اپنے صاحبزادے اور دیگر اعزہ واقارب کثرت کے ساتھ موجود تھے۔اب ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ یہ صورت ایسی ہے کہ اسے ہرگز مشورہ اور انتخاب کی روح کے منافی نہیں سمجھا جاسکتا کیونکہ اول تو حضرت ابو بکڑ نے یہ فیصلہ خود بخود نہیں کیا بلکہ اہل الرائے صحابہ کے مشورہ کے بعد کیا تھا۔دوسرے حضرت ابوبکر خود ایک منتخب شدہ خلیفہ تھے جس کی وجہ سے گویا ان کا ہر فیصلہ قوم کی آواز کا رنگ رکھتا تھا اور پھر انہوں نے اپنے کسی عزیز کو خلیفہ نہیں بنایا بلکہ ایک بالکل غیر شخص کو خلیفہ بنایا جس کے معاملہ میں یہ امکان نہیں ہو سکتا تھا کہ لوگ خلیفہ وقت کی قرابت کا لحاظ کر کے مشورہ میں کمزوری دکھا ئیں گے۔اس صورت میں ہرگز یہ نہیں سمجھا جاسکتا کہ مشورہ اور انتخاب کے طریق کو توڑا گیا ہے بلکہ یہ صورت بھی درحقیقت مشورہ کی ایک قسم کبھی جائے گی۔علاوہ ازیں حضرت عمر کی خلافت کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک صریح پیشگوئی بھی تھی۔تے جس کی وجہ سے کسی مسلمان کو ان کی خلافت پر اعتراض نہیں ہوسکتا تھا اور نہ ہوا بلکہ سب نے کمال انشراح کے ساتھ اسے قبول کیا۔دوسرا سوال حضرت عثمان کی خلافت کا ہے۔سو اول تو ان کا انتخاب خودمحد ودمشورہ سے ہی ہوا ہو مگر بہر حال وہ بطریق مشورہ تھا۔اور ان کی خلافت کے متعلق یہ نہیں کہا جاسکتا کہ وہ سابقہ خلیفہ کے حکم سے قائم ہوئی تھی اور چونکہ اسلام نے مشورہ اور انتخاب کے طریق کی تفاصیل میں دخل نہیں دیا بلکہ تفاصیل کے تصفیہ کو وقتی حالات پر چھوڑ دیا ہے اس لئے محدود مشورہ کا طریق جو حضرت عثمان کی خلافت کے متعلق اختیار کیا گیا وہ ہرگز اسلامی تعلیم کے خلاف نہیں سمجھا جاسکتا۔خصوصاً جبکہ اس بات کو بھی مدنظر رکھا جاوے طبری و تاریخ کامل ابن اثیر حالات ۱۳ نیز موطا مالک بحوالہ تلخیص الصحاح باب في ذكر الخلفاء الراشدين بخاری و مسلم ابواب فضائل اصحاب فضائل حضرت عمر : بخاری کتاب فضائل اصحاب باب قصہ البیعتہ والا تفاق علی عثمان عن عمرو بن میمون۔نیز بخاری ومسلم عن معدان بن ابی طلحه و بخاری و مسلم وابوداؤ دوتر مندی عن ابن عمر بحوالہ تلخیص الصحاح باب في ذكر الخلفاء الراشدين