سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 708
2۔1 +1- گیا ہے کہ اگر عورت کی طرف سے حقیقی خواہش علیحدگی کی موجود ہو اور وہ کسی دھو کے اور شرارت کا شکار نہ ہو رہی ہو تو علیحدگی کا حکم دے دے اور اس سوال میں زیادہ نہ پڑے کہ عورت کی علیحدگی کی خواہش مناسب یا پسندیدہ ہے یا نہیں۔اس اصل کے ماتحت اگر کوئی عورت اپنے خاوند کی دوسری شادی کو اپنے لئے واقعی نا قابل برداشت پاتی ہے تو وہ محض اسی بنا پر ضلع کا مطالبہ کر سکتی ہے۔۹- اگر خاوند اپنی بیوی کو کوئی مال یا جائیداد علاوہ از اخراجات زندگی دے چکا ہو اور وہ اس کی واپسی کا مطالبہ کرے تو خلع کی صورت میں عدالت اس کی واپسی کا بوجھ مناسب حد تک عورت پر ڈال سکتی ہے۔فسخ نکاح اور طلاق اور خلع کی ان صورتوں میں جن میں خاوند اور بیوی کے اکٹھے ہونے کے بعد علیحدگی ہوئی ہو عورت کو دوسری شادی کی اجازت نہیں ہے جب تک کہ اس کی علیحدگی پر ایک مقررہ میعاد جسے موٹے طور پر تین ماہ کہہ سکتے ہیں نہ گزر جاوے یا حمل کی صورت میں وضع حمل نہ ہو جاوے۔اس معیاد کو شریعت کی اصطلاح میں عدت کہتے ہیں۔" یہ اس قانون شادی و طلاق کا ڈھانچہ ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خدائی حکم کے ماتحت مسلمانوں کے واسطے مقرر فرمایا۔اس نظام میں اسلامی قانون شادی کی خوبی تو ہمیشہ ہی اہل عقل وخرد کے نزدیک مسلم رہی ہے۔مگر یہ ایک شکر کا مقام ہے کہ صدیوں کی ٹھوکروں کے بعد اب دنیا میں آہستہ آہستہ اسلامی قانون طلاق کی طرف بھی آرہی ہے۔چنانچہ مختلف مسیحی ممالک میں کم و بیش اسی لائن پر طلاق کا قانون بنتا چلا جارہا ہے جو اسلام نے پیش کی ہے۔گو مغربی ممالک کی روش میں یہ اندیشہ بھی ضرور پایا جاتا ہے کہ کہیں طلاق زیادہ عام نہ ہو جاوے یعنی اس معاملہ میں لوگوں کے لئے حد اعتدال سے زیادہ آزادی کا دروازہ نہ کھول دیا جاوے کیونکہ جہاں ایک طرف طلاق کے دروازے کو بالکل بند کر دینا یا ایسی نا واجب شرائط کے ساتھ مشروط کر دینا جو عملاً بند کر دینے کے مساوی ہوسخت نقصان دہ ہے وہاں اسے نا واجب طور پر زیادہ کھول دینا بھی کم ضرر رساں نہیں اور یقیناً اصلاح کا رستہ وہی ہے جو اسلام نے اعتدال پر قائم رہتے ہوئے پیش کیا ہے۔بخاری کتاب الطلاق باب الخلع وابوداؤ دابواب الطلاق باب الخلع چشمه معرفت صفحه ۲۳۸ کشتی نوح صفحه ۷۲ : سورة بقرة : ۲۳۰ ۲۳۱ نیز بخاری کتاب النکاح باب الخلع نیز دیکھومشکوۃ باب الخلع : سورة بقرة : ۲۲۹ وسورة طلاق : ۵