سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 706
2+Y نکاح باطل یا نکاح فاسد کہتے ہیں ) موٹے طور پر تین حصوں میں تقسیم شدہ سمجھنا چاہئے۔اوّل فسخ نکاح کی صورت جس کے اندر میں فقہ کی اصطلاح سے کسی قدر ہٹ کر لعان وغیرہ کی صورت کو بھی شامل کرتا ہوں یعنی تمام وہ صورتیں جبکہ عقد نکاح کا قائم رہنا نا جائز ہو جاوے۔دوم طلاق یعنی وہ صورت جبکہ علیحدگی کی خواہش اور جدائی کی تحریک خاوند کی طرف سے ہو۔سوم خلع یعنی وہ صورت جبکہ علیحدگی کی خواہش اور جدائی کی تحریک بیوی کی طرف سے ہو۔ان تینوں صورتوں کے لئے اسلام نے الگ الگ ضابطہ مقرر فرمایا ہے۔فسخ نکاح کی صورت اس وقت پیش آتی ہے جبکہ نکاح کا قائم رہنا نا جائز ہو جاوے۔مثلاً لڑکی اپنا حق خیارالبلوغ استعمال کرے ہے جس کی کسی قدر تشریح اوپر گزر چکی ہے۔یا مثلا خاوند کو اپنی بیوی کی عصمت کے خلاف یقین ہو جاوے مگر وہ اسے شرعی طور پر ثابت نہ کر سکے جس صورت میں اسلام یہ حکم دیتا ہے کہ مرد وعورت ایک دوسرے کے خلاف مؤکد بعذاب حلف اٹھائیں اور پھر ان میں علیحدگی کرادی جاوے۔اس صورت کو اسلامی اصطلاح میں لعان کہتے ہیں۔کے - طلاق کی صورت میں اسلامی حکم یہ ہے کہ جب مرد و عورت میں ایسے حالات پیدا ہو جاویں کہ خاوند اپنی بیوی کو علیحدہ کرنے کی طرف مائل ہو جاوے تو پیشتر اس کے کہ وہ طلاق دے فریقین کے متعلقین کو ایک موقع مصالحت کی کوشش کا ملنا چاہئے۔اگر یہ کوشش کامیاب ہو جاوے تو فبہا لیکن اگر وہ کامیاب نہ ہو تو اس صورت میں خاوند کو اپنے اختیار سے بغیر عدالت میں جانے کے طلاق دینے کا حق یہ طلاق ایسے طہر میں ہونی چاہئے جس میں خاوند بیوی اکٹھے نہ ہوئے ہوں تاکہ یہ کام جلد بازی کے طریق پر نہ ہو کہ جب جی میں آیا طلاق دے دی اور تا عورت کی مخصوص کشش خاوند کو اس کے اس ارادے سے روکنے کے لئے آزا در ہے۔د مگر۔گوخاوند بیوی کی جدائی ایک طلاق سے بھی ہو سکتی ہے مگر دو طلاقوں تک خاوند کو رجوع کا حق رہتا و دیکھئے مشکوۃ کتاب النکاح و کتاب الطلاق وغیرہ۔نیز دیکھئے زادالمعاد فصول متعلقہ : بداية المجتهد وزادالمعاد فصول متعلقہ سورة نور: ۳ تا ۹ نیز بخاری کتاب الطلاق ابواب اللعان : سورة نساء : ٣٦ ۵: سورة بقرة : ۲۳۰ تا ۲۳۲ وسورة نساء : ۲۶ وسورة طلاق : ۱تا ۵ بخاری کتاب الطلاق باب اول۔نیز بخاری کتاب التفسیر سورۃ طلاق