سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 57
۵۷ ظہور اسلام سے پہلے عرب کا تہذیب و تمدن ظہور اسلام سے پہلے عرب کا ملک سوائے چند ساحلی علاقوں کے بیرونی دنیا سے ایک بالکل منقطع حالت میں تھا۔حتی کہ نہ اُس پر کبھی کسی بیرونی قوم یا سلطنت کا اثر ہوا اور نہ عرب لوگ خود کبھی مستقل طور پر اپنے وطن سے باہر نکلے۔خود ملک کے اندر بھی اسلام سے پہلے کبھی کوئی متمدن مرکزی سلطنت قائم نہیں ہوئی۔بے شک بعض اوقات بعض علاقہ جات میں بعض ریاستیں قائم ہوئیں مگر اُن کا اثر صرف مقامی تھا اور تمام ملک کبھی بھی کسی ایک تاجدار کے سامنے نہیں جھکا، بلکہ عموماًہر قبیلہ آزاد تھا اور اپنا الگ الگ سردار رکھتا تھا۔مگر عرب میں سرداری کسی کو با قاعدہ ورثہ میں نہ ملتی تھی اور نہ ہی یہ سرداری کوئی با قاعدہ حکومت کے رنگ میں ہوتی تھی، بلکہ عموماً کسی قبیلہ میں جو شخص سب سے زیادہ قابل ہوتا تھا، اُس کی مرضی پر لوگ چلتے تھے اور وہ قوم کا سردار سمجھا جاتا تھا۔طرز زندگی کے لحاظ سے عربوں کی خوراک و لباس اور عام کو دوباش نہایت سادہ اور ابتدائی تھی۔عام خوراک عربوں کی اونٹوں اور بکریوں کا دُودھ اور کھجور تھی۔جو کے ستو بھی عموماً استعمال ہوتے تھے۔ذی ثروت لوگ گوشت بھی کھاتے تھے اور اونٹ یا بکری کے بھنے ہوئے گوشت کو بہت پسند کیا جاتا تھا۔شوربے میں روٹی کو بھگو کر کھانا ایک اعلی قسم کی غذا سمجھی جاتی تھی جسے عرب لوگ ثرید کہتے تھے۔لباس میں بھی یہی سادگی اور غربت کا عالم تھا۔عام لوگوں کے پاس ایک چادر سے زائد کپڑا نہ ہوتا تھا جو وہ تہہ بند کے طور پر باندھے پھرتے تھے۔قمیص صرف خاص خاص لوگ استعمال کرتے تھے اور جُبہ تو گویا ایک بڑی نعمت تھی۔گھروں میں عموماً فرش یا چار پائی نہیں ہوتی تھے۔لوگ عموماً کھجور کی چٹائیوں پر سوتے تھے البتہ ذی ثروت لوگوں میں لکڑی کے تخت استعمال ہوتے تھے۔اوڑھنے کو عموماً اُونٹ کی اون کے بنے ہوئے بھڑے سے کمبل ہوتے تھے۔باقاعدہ مکان کم تھے عموماً خیمے یا پھوس کے چھپر یا کچے مکان استعمال ہوتے تھے ؛ البتہ بعض خاص خاص عمارتیں پتھروں کی بھی بنائی جاتی تھیں۔تقسیم آبادی کے لحاظ سے عرب دو حصوں میں منقسم تھے۔الحضر اور البد و یعنی شہروں میں رہنے والے اور جنگل میں رہنے والے۔شہروں میں رہنے والے چونکہ ایک جگہ جم کر سکونت اختیار کرتے تھے۔اس لیے اُن کا ایک خاص تمدن تھا اور اُن میں ایک مدنیت کا رنگ تھا مگر بدوی لوگوں کی زندگی جنگلی اور خانہ بدوشوں کی سی زندگی تھی۔وہ خیموں اور عارضی گھروں میں رہتے تھے اور اپنے بال بچوں اور مویشیوں کو لے کر ایک وسیع علاقہ میں ادھر اُدھر آزادانہ پھرتے رہتے تھے۔جہاں پانی اور سبزی پاتے وہیں ڈیرہ لگا