سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 693
۶۹۳ صحن میں ایک خیمہ میں رکھا جاوے تا آپ آسانی کے ساتھ ان کی تیمار داری فرما سکیں۔چنانچہ انہیں ایک مسلمان عورت رفیدہ نامی کے خیمہ میں رکھا گیا جو بیماروں کی تیمارداری اور نرسنگ میں مہارت رکھتی تھی اور عموما مسجد کے صحن میں خیمہ لگا کر مسلمان زخمیوں کا علاج کیا کرتی تھی یا مگر باوجود اس غیر معمولی توجہ کے سعد کی حالت رو به اصلاح نہ ہوئی اور اسی دوران میں بنو قریظہ کا واقعہ پیش آ گیا جس کی وجہ سے سعد کو غیر معمولی مشقت اور کوفت برداشت کرنی پڑی اور ان کی کمزوری بہت بڑھ گئی۔انہی ایام میں ایک رات سعد نے نہایت گریہ وزاری سے یہ دعا کی کہ اے میرے مولا تو جانتا ہے کہ میرے دل میں یہ خواہش کس طرح بھری ہوئی ہے کہ اس قوم کے مقابل میں تیرے دین کی حفاظت کے لئے جہاد کروں جس نے تیرے رسول کی تکذیب کی اور اسے اس کے وطن سے نکال دیا۔اے میرے آقا! میرے خیال میں اب ہمارے اور قریش کے درمیان لڑائی کا خاتمہ ہو چکا ہے، لیکن اگر تیرے علم میں کوئی جنگ ابھی باقی ہے تو مجھے اتنی مہلت دے کہ میں تیرے رستے میں ان کے ساتھ جہاد کروں لیکن اگر ان کے ساتھ ہماری جنگ ختم ہو چکی ہے تو مجھے اب زندگی کی تمنا نہیں ہے مجھے اس شہادت کی موت مرنے دے۔“ لکھا ہے کہ اسی رات سعد کا زخم کھل گیا اور اس قدر خون بہا کہ خیمے سے باہر نکل آیا اور لوگ گھبرا کر خیمہ کے اندر ہو گئے تو سعد کی حالت دگر گوں تھی آخر اسی حالت میں سعد نے جان دے دی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو سعد کی وفات کا سخت صدمہ ہوا اور واقعی اس وقت کے حالات کے ماتحت سعد کی وفات مسلمانوں کے لئے ایک نا قابل تلافی نقصان تھی۔سعد کو انصار میں قریب قریب وہی حیثیت حاصل تھی جو مہاجرین میں ابو بکر صدیق کو حاصل تھی۔اخلاص میں، قربانی میں ،خدمت اسلام میں، عشق رسول میں یہ شخص ایسا بلند مرتبہ رکھتا تھا جو کم ہی لوگوں کو حاصل ہوا کرتا ہے اور اس کے ہر حرکت وسکون سے یہ ظاہر ہوتا تھا کہ اسلام اور بانی اسلام کی محبت اس کی روح کی غذا ہے اور بوجہ اس کے کہ وہ اپنے قبیلہ کا رئیس تھا اس کا نمونہ انصار میں ایک نہایت گہرا عملی اثر رکھتا تھا۔ایسے قابل روحانی فرزند کی وفات پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا صدمہ ایک فطری امر تھا مگر آپ نے کامل صبر سے کام لیا اور خدائی مشیت کے سامنے تسلیم ورضا کا سر جھکا دیا۔جب سعد کا جنازہ اٹھا تو سعد کی بوڑھی والدہ نے بتقاضائے محبت کسی قدر بلند آواز سے ان کا نوحہ کیا اور اس نوحہ میں زمانہ کے دستور کے مطابق سعد کی بعض خوبیاں بیان کیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بخاری کتاب المغازی باب مَرْجَعُ النَّتِي مِنَ الْأَحْزَابِ طبری وابن سعد