سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 668 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 668

۶۶۸ پہلے نعیم بن مسعود قبیلہ بنو قریظہ کے پاس گیا۔اور چونکہ ان کے ساتھ اس کے پرانے تعلقات تھے وہ ان کے رؤساء سے مل کر کہنے لگا کہ میرے خیال میں تم نے یہ اچھا نہیں کیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بد عہدی کر کے قریش وغطفان کے ساتھ مل گئے ہو۔قریش و غطفان تو یہاں مدینہ میں صرف چند دن کے مہمان ہیں۔مگر تم لوگوں نے بہر حال یہاں رہنا ہے کیونکہ تمہارا یہ وطن ہے اور یہاں مسلمانوں کے ساتھ ہی تمہارا واسطہ پڑنا ہے اور تم یہ یاد رکھو کہ قریش وغیرہ یہاں سے جاتے ہوئے تمہارا کوئی خیال نہیں کریں گے اور تمہیں یونہی مسلمانوں کے رحم پر چھوڑ کر چلے جائیں گے۔پس تم کم از کم ایسا کرو کہ قریش و غطفان سے کہو کہ بطور یر غمال کے اپنے کچھ آدمی تمہارے حوالہ کر دیں تا کہ تمہیں اطمینان رہے کہ تمہارے ساتھ کوئی غداری نہیں ہوگی۔رؤساء بنو قریظہ کو نعیم کی یہ بات سمجھ آگئی اور وہ اس بات پر آمادہ ہو گئے کہ قریش سے یرغمالوں کا مطالبہ کریں تاکہ بعد میں انہیں کسی مصیبت کا سامنا نہ ہو۔اس کے بعد نعیم بن مسعود قریش کے رؤساء کی طرف گیا اور جا کر کہنے لگا کہ بنو قریظہ خائف ہیں کہ کہیں تمہارے چلے جانے کے بعد انہیں کسی مصیبت کا سامنا نہ ہو اس لئے وہ تمہارے اس اتحاد میں متزلزل ہورہے ہیں اور یہ ارادہ کر رہے ہیں کہ بطور ضمانت کے تم سے چند یر غمالوں کا مطالبہ کریں۔مگر تم ان کو ہرگز یر غمال نہ دینا کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ تم سے غداری کر کے تمہارے پر عمال مسلمانوں کے حوالہ کر دیں وغیرہ وغیرہ۔اسی طرح اس نے اپنے قبیلہ غطفان کے پاس جا کر اسی قسم کی باتیں کیں۔اب خدا کی طرف سے اتفاق ایسا ہوا کہ قریش وغطفان پہلے سے ہی یہ تجویز کر رہے تھے کہ مسلمانوں پر پھر ایک متحدہ حملہ کیا جاوے اور یہ حملہ شہر کے چاروں اطراف میں ایک ہی وقت میں کیا جاوے تا کہ مسلمان اپنی قلت تعداد کی وجہ سے اس کا مقابلہ نہ کرسکیں اور کسی نہ کسی جگہ سے ان کی لائن ٹوٹ کر حملہ آوروں کو راستہ دے دے۔اس ارادے کے ماتحت انہوں نے بنو قریظہ کو کہلا بھیجا کہ محاصرہ لمبا ہورہا ہے اور لوگ تنگ آ رہے ہیں۔پس ہم نے یہ تجویز کی ہے کہ سب قبائل مل کر کل کے دن ایک متحدہ حملہ مسلمانوں پر کریں اس لئے تم بھی کل کے حملہ کے واسطے تیار ہو جاؤ۔بنو قریظہ نے جن کے ساتھ نعیم بن مسعود کی پہلے سے بات ہو چکی تھی یہ جواب دیا کہ کل تو ہمارا سبت کا دن ہے اس لئے ہم معذور ہیں اور ویسے بھی جب تک آپ لوگ اس ضمانت کے طور پر کہ آپ کی طرف سے بعد میں ہمارے ساتھ غداری نہیں ہو گی اپنے کچھ آدمی ہمارے حوالے نہ کر دیں ہم اس حملہ میں شامل نہیں ہو سکتے۔جب قریش و غطفان کو بنو قریظہ کا یہ جواب گیا تو وہ حیران رہ گئے اور کہنے لگے کہ ل : ابن ہشام