سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 667 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 667

۶۶۷ وہ آپ پر عیاں ہے، ہمارا تو کلیجہ منہ کو آرہا ہے۔آپ خدا سے خاص طور پر دعا فرما ئیں کہ وہ اس مصیبت کو دور فرمائے اور ہمیں بھی کوئی دعا سکھائیں جو ہم اس موقع پر خدا سے مانگیں۔آپ نے انہیں تسلی دی اور فرمایا کہ تم خدا سے یہ دعا کیا کرو کہ وہ تمہاری کمزوریوں پر پردہ ڈالے اور تمہارے دلوں کو مضبوط کرے اور تمہاری گھبراہٹ کو دور فرمائے۔اور پھر آپ نے خود یہ دعا فرمائی کہ اَللَّهُمَّ مُنْزِلَ الْكِتَبِ سَرِيعَ الْحِسَابِ اهْزِمِ الْأَحْزَابَ اللَّهُمَّ اهْزِمُهُمْ وَانْصُرْنَا عَلَيْهِمْ وَزَلْزِلْهُمْ۔اور ایک روایت میں یوں آتا ہے کہ آپ نے یہ دعا فرمائی کہ يَا صَرِيخَ الْمَكْرُوبِيْنَ يَا مُجِيبَ الْمُضْطَرِينَ اكْشِفُ هَمِّي وَغَمِّي وَكَرْبِي فَإِنَّكَ تَرَى مَانَزَلَ بِي وَبِاَصْحَابِی۔یعنی اے دنیا میں اپنے احکام کو جاری کرنے والے خدا! اور اے حساب لینے میں دیر نہ کرنے والے! تو اپنے فضل سے کفار کے ان احزاب کو پسپا فرما۔اے میرے قادر ! تو ضرور ایسا ہی کر اور کفار کے مقابلہ میں ہماری مدد فرما اور ان کی طاقت پر زلزلہ وار دکر۔اے تکلیف میں مبتلا لوگوں کی آہ و پکار کو سننے والے! اے مضطر لوگوں کی دعاؤں کو قبول کرنے والے! تو ہمارے غم اور فکر اور بے چینی کو دور فرما کیونکہ جو مجھ پر اور میرے اصحاب پر اس وقت مصیبت وارد ہے وہ تیرے سامنے ہے۔“ حسن اتفاق سے اسی وقت یا اس کے قریب قریب ایک شخص نعیم بن مسعود جو قبائل غطفان کی شاخ قبیلہ المجمع سے تعلق رکھتا تھا جو اس جنگ میں مسلمانوں کے خلاف لڑ رہے تھے مدینہ میں پہنچ گیا۔یہ شخص دل میں مسلمان ہو چکا تھا مگر ابھی تک کفار کو اس کے مسلمان ہونے کی اطلاع نہیں تھی۔اس حالت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس نے کمال ہوشیاری سے ایسی تدبیر اختیار کی جس سے کفار میں پھوٹ پیدا ہوگئی ہے لے مسند احمد بحوالہ زرقانی ابن سعد جلد ۲ صفحہ ۵۳،۴۹۔اس موقع پر ابن ہشام نے یہ روایت کی ہے کہ نعیم بن مسعود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تھا اور پھر خود آپ نے اسے اس ڈیوٹی پر لگایا کہ کسی طرح حسن تدبیر سے کفار کو واپس لوٹا دے۔اگر ایسا ہوا ہو تو اصولاً یہ قابل اعتراض نہیں ہے۔مگر اصول روایت کی رو سے یہ بات درست ثابت نہیں ہوتی کیونکہ اول تو ابن ہشام نے اس واقعہ کو بغیر سند کے بیان کیا ہے مگر اس کے مقابلہ میں ابن سعد نے اپنی روایت کی سند دی ہے۔( دیکھوا بن سعد جلد ۲ صفحه ۵۳) علاوہ ازیں ابن ہشام والی روایت کو جسے محدث شیرازی نے القاب میں نقل کیا ہے محققین نے ضعیف قرار دیا ہے۔(دیکھو الجامع الصغیر للسیوطی جلد ۲ صفحہ ۲) پس صحیح واقعہ یہی معلوم ہوتا ہے کہ نعیم نے بطور خود یہ تدبیر کی تھی۔واللہ اعلم بخاری کتاب المغازی حالات غزوہ خندق زرقانی