سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 666
کے لئے جس قد رسخت غزوہ خندق تھا ایسا کوئی اور غزوہ نہیں گزرا۔اس غزوہ میں آپ کو بے انتہا تکلیف اور پریشانی برداشت کرنی پڑی اور صحابہ کی جماعت کو بھی سخت مصائب کا سامنا ہوا اور یہ دن بھی سخت سردی اور مالی تنگی کے دن تھے۔لے دوسری طرف شہر میں مستورات اور بچوں کا یہ حال تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو عموماً شہر کے ایک خاص حصہ میں جو ایک گونہ قلعہ کا رنگ رکھتا تھا جمع کروا دیا ہے مگر ان کی خاطر خواہ حفاظت کے لئے کافی مسلمان فارغ نہیں کئے جاسکتے تھے اور خصوصاً ایسے اوقات میں جبکہ میدان جنگ میں دشمن کے حملوں کا زیادہ زور ہوتا تھا مسلمان خواتین اور بچے قریب بالکل غیر محفوظ حالت میں رہ جاتے تھے اور ان کی حفاظت کے لئے صرف ایسے مرد رہ جاتے تھے جو کسی وجہ سے میدان جنگ کے قابل نہ ہوں۔چنانچہ کسی ایسے ہی موقع سے فائدہ اٹھا کر یہودیوں نے شہر کے اس حصہ پر حملہ آور ہو جانے کی تجویز کی جس میں مستورات اور بچے جمع تھے اور جاسوسی کی غرض سے انہوں نے اپنا ایک آدمی اپنے آگے آگے اس محلہ میں بھیجا۔اس وقت اتفاق سے عورتوں کے قریب صرف ایک صحابی حسان بن ثابت شاعر موجود تھے سے جو دل کی غیر معمولی کمزوری کی وجہ سے میدان جنگ میں جانے کے قابل نہیں تھے۔عورتوں نے جب اس دشمن یہودی کو ایسے مشتبہ حالات میں اپنے جائے قیام کے آس پاس چکر لگاتے دیکھا تو صفیہ بنت عبدالمطلب نے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی تھیں حسان سے کہا کہ یہ شخص معاند یہودی ہے اور یہاں جاسوسی اور شرارت کے لئے چکر لگا رہا ہے اسے قتل کر دو تا کہ واپس جا کر وہ کسی فتنہ کا موجب نہ بنے مگر حسان کو اس کی ہمت نہ ہوئی جس پر حضرت صفیہ نے خود آگے نکل کر اس یہودی کا مقابلہ کیا اور اسے مار کر گرا دیا۔اور پھر انہی کی تجویز سے یہ قرار پایا کہ اس یہودی جاسوس کا سرکاٹ کر قلعہ کی اس سمت میں گرا دیا جاوے جہاں یہودی جمع تھے تا کہ یہودیوں کو مسلمان عورتوں پر حملہ آور ہونے کی ہمت نہ پڑے اور وہ یہ سمجھیں کہ ان کی حفاظت کے لئے اس جگہ کا فی مرد موجود ہیں۔چنانچہ یہ تدبیر کارگر ہوئی اور اس موقع پر یہودی لوگ مرعوب ہو کر واپس چلے گئے۔2 یہ وقت مسلمانوں پر ایک سخت مصیبت کا وقت تھا۔چنانچہ اس مصیبت کی سختی سے گھبرا کر چند صحابہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! جو صورت حال ہے : ابن ہشام وابن سعد و خمیس : خمیس وابن ہشام ۵ : الخمیس جلد اصفحه ۵۵۰ ل تاریخ خمیس جلد اصفحه ۵۴۶ ابن ہشام