سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 661 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 661

۶۶۱ مسلمانوں پر ایک نہایت شدید زلزلہ وارد ہوا تھا۔“ ایسے خطر ناک وقت میں مسلمانوں کی قلیل جمعیت جن میں بعض کمز ور طبیعت لوگ اور بعض منافق بھی شامل تھے کیا مقابلہ کرسکتی تھی۔ان کے پاس تو اتنے آدمی بھی نہ تھے کہ کمزور مواقع پر خاطر خواہ پہرے کا انتظام کر سکیں۔چنانچہ دن رات کی سخت ڈیوٹی نے مسلمانوں کو چور کر رکھا تھا۔دوسری طرف بنو قریظہ کی غداری کی وجہ سے شہر کی گلی کوچوں کے پہرے کو زیادہ مضبوط کرنا بھی ضروری تھا تا کہ مستورات اور بچے محفوظ رہ سکیں۔کفار کے سپاہی مسلمانوں کو ہر رنگ میں پریشان کرنے کی کوشش کرتے تھے۔کبھی وہ کسی کمزور جگہ پر یورش کر کے جمع ہو جاتے اور مسلمان اس کی حفاظت کے لئے وہاں اکٹھے ہونے لگتے جس پر وہ فور أرخ پلٹ کر کسی دوسرے موقع پر زور ڈال دیتے اور مسلمان بیچارے بھاگتے ہوئے وہاں پہنچتے کبھی وہ ایک ہی وقت میں دو دو تین تین جگہوں پر دھاوا کر کے پہنچتے جس کے نتیجے میں مسلمانوں کی جمعیت منتشر ہو کر ٹکڑوں میں تقسیم ہو جاتی اور بعض اوقات حالات بہت نازک صورت اختیار کر لیتے اور قریب ہوتا کہ کسی کمزور موقعے سے فائدہ اٹھا کر لشکر کفار حدود شہر کے اندر داخل ہو جاوے۔ان دھاووں کا مقابلہ مسلمانوں کی طرف سے عموماً تیروں کے ذریعہ کیا جاتا تھا مگر بعض اوقات کفار کے سپاہی یہ طریق اختیار کرتے کہ ایک دستہ تو مسلمانوں پر تیروں کی باڑ مار مار کر انہیں پیچھے رکھتا اور دوسرا دستہ یورش کر کے خندق کے کسی کمزور حصہ پر دھاوا کر کے آجاتا اور اسے کود کر عبور کرنا چاہتا۔یہ طریق جنگ صبح سے لے کر شام تک بلکہ بعض اوقات رات کے حصوں میں بھی جاری رہتا تھا۔چنانچہ سرولیم میور اس جنگ کے دودن کے واقعات کو مندرجہ ذیل الفاظ میں سپرد قلم کرتے ہیں : مسلمانوں کے پہرے کی ہوشیاری اتحادیوں کی فوج کے حملوں کو روکے ہوئے تھی۔اتحادی فوج نے یہ فیصلہ کیا کہ اگر ممکن ہو تو خندق پر دھاوا کر کے اسے عبور کر جائیں اور اس غرض سے انہوں نے خندق کے ایک کمزور اور تنگ حصہ کو منتخب کر کے اس پر ایک عام دھاوا کر دیا۔چنانچہ ان میں سے بعض جانباز سپاہی عکرمہ بن ابوجہل کی کمان کے ماتحت اپنے گھوڑوں کو ایڑ لگاتے ہوئے خندق کے اس حصہ پر یورش کر کے آئے اور اپنے تیز گھوڑوں کو اُڑاتے ہوئے خندق کے اوپر سے کود کر مسلمانوں کے سامنے آگئے۔ادھر سے علی اپنے ایک دستہ کو ساتھ لے کر ان کی طرف لپکے اور اس پارٹی نے بڑی ہوشیاری سے عکرمہ کے دستے کا ابن سعد و خمیس و زرقانی