سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 52
۵۲ اور اسی وجہ سے بعض اوقات الحساء کو بحرین بھی کہہ لیتے ہیں۔بحرین کے ساحل سے موتی نکالے جاتے ہیں۔- وسط عرب میں نجد ہے جو ایک نہایت وسیع اور مشہور علاقہ ہے اور کئی چھوٹے چھوٹے علاقوں میں جن میں سے بعض عرب کے شاداب حصوں میں شمار ہوتے ہیں منقسم ہے۔قبائل غطفان اور سلیم وغیرہ اس جگہ آباد تھے۔یمامہ جو نجد کے جنوب مشرق میں ہے۔بنو حنیفہ یعنی مسیلمہ کذاب کے قبیلے کا مسکن تھا۔یمامہ اور حضر موت کے درمیان الاحقاف ایک معروف علاقہ ہے۔قوم عاد کا جن کی طرف حضرت ہو مبعوث ہوئے تھے ، یہی مسکن تھا۔مگر آجکل یہ بالکل ویران و غیر آباد ہے۔- نجد کے شمال مشرق میں حجاز کے ساتھ ملا ہوا خیبر بھی ایک چھوٹا سا علاقہ ہے جو قدیم زمانہ میں یہود کا ایک بڑا مرکز تھا اور قلعوں کے ساتھ مستحکم کیا گیا تھا۔خیبر کے شمال مشرق میں تیما بھی یہود کا ایک مرکز تھا۔تیما کے قریب ہی حجر کی بستی ہے جس میں شمود کی قوم آباد تھی جس کی طرف حضرت صالح" مبعوث ہوئے تھے۔تحجر کے غربی جانب ساحلِ سمندر کی طرف مدین کا علاقہ ہوتا تھا جہاں حضرت موسیٰ اپنی بعثت سے پہلے حضرت شعیب کے پاس آ کر ٹھہرے تھے۔باشندے عرب ایک بہت کم آباد ملک ہے۔بارش کی کمی ، ریگستان کی زیادتی ، نباتاتی اور معدنی پیداوار کی قلت وغیرہ کئی باتوں نے مل ملا کر اس کی آبادی کو بڑھنے نہیں دیا۔پھر بھی آج کل ستر اسی لاکھ کے قریب اس کی آبادی بتائی جاتی ہے جو ملک کے حالات کے ماتحت کم نہیں ہے۔تقسیم اقوام کے لحاظ سے مؤرخین نے قبائل عرب کو دو اور ایک لحاظ سے تین بڑے حصوں میں تقسیم کیا ہے۔اول - عرب عاربہ یعنی ملک کے قدیم اور اصلی باشندے جو آگے پھر دوحصوں میں تقسیم کئے گئے ہیں: (الف) عرب کے وہ قدیم ترین باشندے جو اسلام سے بہت عرصہ پہلے فنا ہو چکے تھے۔بعد زمانہ کی وجہ سے ہمیں اُن کے تفصیلی حالات معلوم نہیں ہیں، مگر اتنا پتہ چلتا ہے کہ وہ کئی قبائل تھے اور ملک کے مختلف حصوں میں آباد تھے اور ان میں سے بعض قبائل کی اچھی اچھی زبر دست اور متمدن ریاستیں تھیں۔عاد نمود، طسم ، جدیں اور جرہم الاولیٰ وغیرہ انہی میں سے چند مشہور قبائل کے نام ہیں۔عاد کا وطن احقاف میں تھا اور ثمود حجاز کے شمال میں جوف میں آباد تھے۔ان قدیم ترین قبائل کو ان کے فنا ہو جانے کی وجہ سے عرب بائدہ بھی کہتے ہیں۔