سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 649 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 649

۶۴۹ الغرض خندق کی تجویز پختہ ہونے کے بعد صحابہ کی جماعت مزدوروں کے لباس میں ملبوس ہو کر میدان کارزار میں نکل آئی۔کھدائی کا کام کوئی آسان کام نہیں تھا اور پھر یہ موسم بھی سردی کا تھا جس کی وجہ سے ان ایام میں صحابہ نے سخت تکالیف اٹھا ئیں اور چونکہ دوسرے کاروبار بالکل بند ہو گئے تھے اس لئے وہ لوگ جن کا کام روز کی روٹی روز کمانا تھا اور صحابہ میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں تھی ان کو تو ان دنوں میں بھوک اور فاقہ کشی کی مصیبت بھی برداشت کرنی پڑی اور چونکہ صحابہ کے پاس نوکر اور غلام بھی نہ تھے اس لئے سب صحابہ کو خود اپنے ہاتھ سے کام کرنا پڑتا تھالے جو دس دس کی ٹولیاں مقرر ہوئی تھیں انہوں نے اپنے کام کی اندرونی تقسیم اس طرح کی تھی کہ کچھ آدمی کھدائی کرتے تھے اور کچھ کھدی ہوئی مٹی اور پتھروں کو ٹوکریوں میں بھر بھر کر اپنے کندھوں پر لاد کر باہر پھینکتے جاتے تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی بیشتر حصہ اپنے وقت کا خندق کے پاس گزارتے تھے اور بسا اوقات خود بھی صحابہ کے ساتھ مل کر کھدائی اور مٹی کی ڈھلائی کا کام کرتے تھے اور ان کی طبیعتوں میں شگفتگی قائم رکھنے کے لئے بعض اوقات آپ کام کرتے ہوئے شعر پڑھنے لگ جاتے تھے جس پر صحابہ بھی آپ کے ساتھ سُر ملا کر وہی شعر دہراتے تھے۔چنانچہ روایات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اس موقع پر مندرجہ ذیل شعر پڑھنا خصوصیت کے ساتھ مذکور ہوا ہے۔اللَّهُمَّ إِنَّ الْعَيْشَ عَيْشُ الْآخِرَةِ فَاغْفِرُ لِلا نُصَارِ وَالْمُهَاجِرَة یعنی اے ہمارے مولا! اصل زندگی تو بس آخرت کی زندگی ہے۔پس تو اپنے فضل سے ایسا سامان کر کہ انصار و مہاجرین کو آخرت کی زندگی میں تیری بخشش اور عطا نصیب ہو جاوے۔“ اس شعر کے جواب میں بعض اوقات صحابہ یہ شعر پڑھتے تھے کہ ؎ = نَحْنُ الَّذِينَ بَايَعُوا مُحَمَدًا عَلَى الْجِهَادِ مَابَقِيْنَا اَبَدًا یعنی ”ہم وہ ہیں کہ ہم نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر یہ عہد کیا ہے کہ ہم ہمیشہ جب تک کہ ہماری جان میں جان ہے خدا کے رستے میں جہاد کرتے رہیں گے۔“ اور کبھی آپ اور صحابہ عبداللہ بن رواحہ انصاری کے یہ اشعار پڑھتے تھے بخاری حالات غزوہ احزاب بخاری حالات خندق بخاری حالات غزوہ خندق