سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 51 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 51

۵۱ تانبا ملتا ہے اور کچھ کچھ چاندی اور لو ہا۔کوئلہ۔گندھک اور نمک بھی پائے جاتے ہیں۔سونا بھی کہیں کہیں موجود ہے۔اور ایک انگریز مسٹر برٹن نے مدین میں اس کی تلاش بھی کی تھی ، مگر کامیابی نہیں ہوئی۔بحرین میں سمندر کے کناروں سے موتی بھی نکالے جاتے ہیں اور ان کی خاصی تجارت ہے۔اب تو پٹرول کے بڑے بڑے ذخائر عرب میں دریافت ہو چکے ہیں۔ملکی تقسیم ملکی تقسیم کے لحاظ سے عرب کئی حصوں میں منقسم ہے جن میں بڑے بڑے حصے یہ ہیں : ۱۔مغرب میں حجاز ہے جو بحر احمر کے ساتھ ساتھ یمن سے لے کر شام تک پھیلے ہوئے ساحلی علاقے کا نام ہے۔اس میں مکہ اور طائف اور مدینہ اور جدہ وغیرہ بڑے بڑے شہر آباد ہیں۔ظہو ر اسلام کے وقت عرب مستعربہ میں سے قبائل بنو کنانہ، قبائل ھذیل اور قبائل ہوازن اور بنو قحطان میں سے بعض قبائل ازد وغیرہ اس علاقہ میں آباد تھے۔-۲ حجاز کے جنوب میں اور بعض کے نزدیک اُس کے اندر شامل تہامہ بھی ایک مشہور علاقہ ہے جو بحر احمر کے ساحل کے ساتھ ساتھ واقع ہے۔عرب کے جنوب مغرب میں یمن ہے جو ایک بہت مشہور اور نہایت شاداب علاقہ ہے۔قدیم زمانہ میں یہ ایک اچھی طاقتور اور متمدن سلطنت کا مرکز تھا اور ظہور اسلام سے قبل حبشہ کے اور ظہو را سلام کے وقت فارس کے ماتحت تھا۔اس کا بڑا شہر صنعاء کسی زمانے میں بہت مشہور اور سلطنت یمن کا پایہ تخت تھا۔سبا کی قوم جس کا قرآن شریف میں ذکر آتا ہے ایک زمانہ میں اس جگہ آباد تھی۔بنو قحطان کا مولد و مسکن بھی یمن تھا۔اور یہیں سے اکثر قبائل بنو قحطان نے عرب کے شمال کی طرف رحلت کی تھی ، چنانچہ مدینہ کے اوس اور خزرج بھی جنہوں نے اسلام میں انصار کا لقب پایا ، یہیں سے گئے تھے۔یمن کے ساتھ ہی ملا ہو ایک اور علاقہ نجران ہے جو یمن کے شمال مشرق میں واقع ہے۔ظہور اسلام کے وقت یہ علاقہ عرب کے عیسائیوں کا بڑا مرکز تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مباہلہ کے لئے جس کا ذکر قرآن شریف میں بھی آتا ہے انہی لوگوں کو بلا یا تھا۔عرب کے جنوب میں یمن کے مشرق کی طرف حضر موت ہے اور حضر موت کے مشرق کی طرف مہرہ ہے۔یہ ہر دو مشہور علاقے ہیں۔-۴- عرب کے جنوب مشرق میں عثمان ہے جس کا دارالخلافہ مسقط ایک مشہور شہر ہے۔- مشرق میں خلیج فارس کے ساحل کے ساتھ الحساء کا علاقہ ہے جس کے قریب میں بحرین کے جزائر ہیں