سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 50 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 50

وہ علاقے جہاں کھیتی باڑی ہو سکتی ہے مثلاً بعض ساحلی علاقے اور پہاڑوں کی وادیاں وغیرہ۔وہاں بعض قبائل کھیتی باڑی کر کے اپنے لیے کچھ غلہ پیدا کر لیتے ہیں ؛ چنانچہ کو اور جوار کہیں کہیں بوئے جاتے ہیں۔کچھ گندم بھی ہو جاتی ہے۔لوبیا اور دالیں اکثر جگہ ہوتی ہیں۔بعض ترکاریاں بھی پیدا کی جاتی ہیں اور قہوہ اور گرم مصالحہ جات بھی ہوتے ہیں۔بارانی علاقوں میں گھاس وغیرہ اچھا اُگ آتا ہے۔یہ علاقے جانوروں کے واسطے چراگاہ کا کام دیتے ہیں۔تمام قبائل کی اپنی اپنی چرا گا ہیں الگ الگ مقرر ہیں۔سطح مرتفع نجد خصوصاً چرا گا ہوں کا مرکز ہے۔حیوانی پیداوار کے ضمن میں تین جانور خصوصیت کے ساتھ مشہور ہیں۔یعنی اونٹ ، گھوڑا اور گدھا۔اونٹ تو گویا عرب کی ضروریات زندگی کا حصہ ہے۔اس کے بغیر عرب جیسے ملک میں سفر کرنا قریباً محال ہے۔ضرورت کے وقت اس کا گوشت بھی کھاتے ہیں۔عرب کا گھوڑا بعض خوبیوں کی وجہ سے دُنیا میں ممتاز حیثیت رکھتا ہے۔عرب لوگ اسے بہت عزیز رکھتے ہیں اور عام طور پر اس کی نسل باہر جانے نہیں دیتے۔نجدی گھوڑا عرب میں خاص قدر و وقعت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔گدھا بھی عام ہے اور سواری کے کام میں استعمال ہوتا ہے۔زمانہ جاہلیت میں عرب اس کا گوشت بھی کھاتے تھے۔عرب میں بھیڑ بکریاں بھی بہت ہوتی ہیں اور امراء ان کے گلے کے گلے رکھتے ہیں۔گائے بیل بھی ہوتے ہیں، مگر کم۔بھینس عرب میں نہیں ہوتی۔جنگلی جانوروں میں شیر، چیتا بعض علاقوں میں ملتا ہے۔بھیڑ یئے ،لگڑ بگڑ ، بندر اور گیدڑ وغیرہ کافی ہوتے ہیں۔ہرن بھی ملتا ہے اور جنگلی بکری بھی پہاڑوں میں پائی جاتی ہے۔گورخر ( جنگلی گدھا) بھی ہوتا ہے جس کا عرب لوگ شوق سے شکار کھیلتے ہیں۔پرندوں میں عام پرندوں کے ذکر کو ترک کرتے ہوئے صرف شتر مرغ قابل ذکر ہے۔یہ ایک بہت بڑا جانور ہوتا ہے جس کی لمبی لمبی ٹانگیں ہوتی ہیں اور ایسا تیزی سے بھاگتا ہے کہ گھوڑے کو بھی پاس پھٹکنے نہیں دیتا۔رینگنے والے جانوروں میں سے صرف گرگٹ کی قسم کے جانوروں کی کثرت ہے باقی کم ہیں۔گو سانپ وغیرہ بھی ہوتے ہیں۔ٹڈی جس کا گوشت کھایا جاتا ہے کثرت کے ساتھ ہوتی ہے۔اور باغات اور فصلوں وغیرہ کا بڑا نقصان کرتی ہے۔ساحل کے قریب مچھلی بھی ملتی ہے اور لوگ اسے پکڑتے ہیں۔معدنی پیداوار عرب کی بہت کم ہے۔قیمتی اور کار آمد دھاتیں تو گویا بالکل ہی نہیں ہیں کچھ سیسہ اور