سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 629 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 629

۶۲۹ مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بیدار مغزی کی وجہ سے اب ان کو لینے کے دینے پڑ گئے تھے۔پس وہ بہت مرعوب ہو گئے اور دوسرے قبائل جوان کی مدد کے لئے ان کے ساتھ جمع ہو گئے تھے وہ تو خدائی تصرف کے ماتحت کچھ ایسے خائف ہوئے کہ فوراً ان کا ساتھ چھوڑ کر اپنے اپنے گھروں کو چلے گئے لے مگر خود بنو مصطلق کو قریش نے مسلمانوں کی دشمنی کا کچھ ایسا نشہ پلا دیا تھا کہ وہ پھر بھی جنگ کے ارادے سے باز نہ آئے اور پوری تیاری کے ساتھ اسلامی لشکر کے مقابلہ کے لئے آمادہ رہے۔جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مریسیع میں پہنچے جس کے قریب بنو مصطلق کا قیام تھا اور جو ساحل سمندر کے قریب مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک مقام کا نام ہے تو آپ نے ڈیرہ ڈالنے کا حکم دیا اور صف آرائی اور جھنڈوں کی تقسیم وغیرہ کے بعد آپ نے حضرت عمر کو حکم دیا کہ آگے بڑھ کر بنو مصطلق میں یہ اعلان کریں کہ اگر اب بھی وہ اسلام کی عداوت سے باز آجائیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حکومت کو تسلیم کر لیں تو ان کو امن دیا جائے گا اور مسلمان واپس لوٹ جائیں گے مگر انہوں نے سختی کے ساتھ انکار کیا اور جنگ کے واسطے تیار ہو گئے یا حتی کہ لکھا ہے کہ سب سے پہلا تیر جو اس جنگ میں چلایا گیا وہ انہی کے آدمی نے چلایا۔جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی یہ حالت دیکھی تو آپ نے بھی صحابہ کولڑنے کا حکم دیا۔تھوڑی دیر تک فریقین کے درمیان خوب تیز تیراندازی ہوئی۔جس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو لیکلخت دھاوا کر دینے کا حکم دیا اور اس اچانک دھاوے کے نتیجے میں کفار کے پاؤں اکھڑ گئے مگر مسلمانوں نے ایسی ہوشیاری کے ساتھ ان کا گھیرا ڈالا کہ ساری کی ساری قوم محصور ہو کر ہتھیار ڈالنے پر مجبور ہوگئی اور صرف دس کفار اور ایک مسلمان کے قتل پر اس جنگ کا جو ایک خطرناک صورت اختیار کرسکتا تھا خاتمہ ہو گیا ہے اس موقع پر یہ ذکر کرنا ضروری ہے کہ اسی غزوہ کے متعلق صحیح بخاری میں ایک روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو مصطلق پر ایسے وقت میں حملہ کیا تھا کہ وہ غفلت کی حالت میں اپنے جانوروں کو پانی پلا رہے تھے۔مگر غور سے دیکھا جاوے تو یہ روایت مؤرخین کی روایت کے خلاف نہیں ہے بلکہ درحقیقت یہ دور واسیتیں دو مختلف وقتوں سے تعلق رکھتی ہیں یعنی واقع یوں ہے کہ جب اسلامی لشکر بنو مصطلق کے قریب پہنچا تو اس وقت چونکہ ان کو یہ معلوم نہیں تھا کہ مسلمان بالکل قریب آگئے ہیں ( گوانہیں اسلامی لشکر کی آمد آمد کی اطلاع ضرور ہو چکی تھی وہ اطمینان کے ساتھ ایک بے ترتیبی کی حالت میں پڑے تھے اور ابن سعد : زرقانی حالات غزوہ مریسیع ابن سعد ه بخاری کتاب العتق : زرقانی