سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 622
۶۲۲ کو جو ہم نے قرآن شریف اور احادیث صحیحہ کی بنا پر مرتب کر کے ہدیہ ناظرین کیا ہے اس لچر اور نا قابل التفات قصہ پر ترجیح دے گا جسے بعض منافقین نے اپنے پاس سے گھڑ کر روایت کیا۔اور مسلمان مؤرخین نے جن کا کام صرف ہر قسم کی روایات کو جمع کرنا تھا اسے بغیر کسی تحقیق کے اپنی تاریخ میں جگہ دے دی اور پھر بعض غیر مسلم مؤرخین نے مذہبی تعصب سے اندھا ہو کر اسے اپنی کتاب کی زینت بنایا ہے۔اس بناوٹی قصہ کے ضمن میں یہ بات خاص طور پر یا درکھنی چاہئے کہ یہ زمانہ اسلامی تاریخ کا وہ زمانہ تھا جبکہ منافقین مدینہ اپنے پورے زور میں تھے اور عبداللہ بن ابی بن سلول کی سرکردگی میں ان کی طرف سے ایک با قاعدہ سازش اسلام اور بانی اسلام کو بدنام کرنے کی جاری تھی۔اور ان کا یہ طریق تھا کہ جھوٹے اور بناوٹی قصے گھڑ گھڑ کر خفیہ خفیہ پھیلاتے رہتے تھے۔یا اصل بات تو کچھ ہوتی تھی اور وہ اسے کچھ کا کچھ رنگ دے کر اور اس کے ساتھ سو قسم کے جھوٹ شامل کر کے اس کی در پردہ اشاعت شروع کر دیتے تھے۔چنانچہ قرآن شریف کی سورۃ احزاب میں جس جگہ حضرت زینب کی شادی کا ذکر ہے اس کے ساتھ ساتھ منافقین مدینہ کا بھی خاص طور پر ذکر کیا گیا ہے اور ان کی شرارتوں کی طرف اشارہ کر کے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔لَبِنْ لَمْ يَنْتَهِ الْمُنْفِقُونَ وَالَّذِيْنَ فِي قُلُوبِهِمْ مَّرَضٌ وَالْمُرْجِفُونَ فِي الْمَدِينَةِ لَنُخْرِيَنَّكَ بِهِمْ ثُمَّ لَا يُجَاوِرُوْنَكَ فِيهَا إِلَّا قَلِيْلًا " یعنی اگر منافق لوگ اور وہ لوگ جن کے دلوں میں بیماری ہے اور مدینہ میں جھوٹی اور فتنہ انگیز خبروں کی اشاعت کرنے والے لوگ اپنی ان کارروائیوں سے باز نہ آئے تو پھر اے نبی ! ہم تمہیں ان کے خلاف ہاتھ اٹھانے کی اجازت دیں گے اور پھر یہ لوگ مدینہ میں نہیں ٹھہر سکیں گے مگر تھوڑا۔اس آیت میں صریح طور پر اس قصہ کے جھوٹا ہونے کی طرف اصولی اشارہ کیا گیا ہے۔پھر جیسا کہ آگے چل کر ذکر آتا ہے اسی زمانہ کے قریب قریب حضرت عائشہ کے خلاف بہتان لگائے جانے کا خطرناک واقعہ بھی پیش آیا اور عبد اللہ بن ابی اور اس کے بد باطن ساتھیوں نے اس افترا کا اس قدر چر چا کیا اور ایسے ایسے رنگ دے کر اس کی اشاعت کی کہ مسلمانوں پر ان کا عرصہ عافیت تنگ ہو گیا۔اور بعض کمزور طبیعت اور نا واقف مسلمان بھی ان کے اس گندے پرو پیگنڈا کا شکار ہو گئے۔الغرض یہ زمانہ منافقوں کے خاص زور کا زمانہ تھا اور ان کا سب سے زیادہ دل پسند حریہ یہ تھا کہ جھوٹی اور گندی خبریں اڑا اڑا کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے متعلقین کو بد نام کریں۔یہ خبریں ایسی ہوشیاری کے ساتھ پھیلائی جاتی تھیں کہ بعض اوقات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے : سورۃ احزاب : ۶۱