سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 621
۶۲۱ شکایت کرنا بیان کیا گیا ہے اور اس کے مقابلے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ذکر کیا گیا ہے کہ ” تم خدا کا تقویٰ اختیار کرو اور طلاق نہ دو۔وہ بخاری کی روایت ہے جو دوست اور دشمن کے نزدیک قرآن شریف کے بعد اسلامی تاریخ کا صحیح ترین ریکارڈ سمجھی گئی ہے اور جس کے خلاف کبھی کسی حرف گیر کو انگشت نمائی کی جرات نہیں ہوئی۔پس اصول روایت کی رو سے دونوں روایتوں کی قدر و قیمت ظاہر ہے۔اسی طرح عقلاً بھی غور کیا جاوے تو ابن سعد وغیرہ کی روایت کے غلط ہونے میں کوئی شک نہیں رہتا کیونکہ جب یہ بات مسلّم ہے کہ زینب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی زاد بہن تھیں حتی کہ آپ ہی نے ان کے ولی بن کر زید بن حارثہ سے ان کی شادی کی تھی۔اور دوسری طرف اس بات سے بھی کسی کو انکار نہیں ہوسکتا کہ اب تک مسلمان عورتیں پر دہ نہیں کرتی تھیں بلکہ پردہ کے متعلق ابتدائی احکام حضرت زینب اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شادی کے بعد نازل ہوئے تھے تو اس صورت میں یہ خیال کرنا کہ زینب کو آپ نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا صرف اس وقت اتفاقی نظر پڑ گئی اور آپ ان پر فریفتہ ہو گئے ایک صریح اور بدیہی البطلان جھوٹ سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا۔یقیناً اس سے پہلے آپ نے ہزاروں دفعہ زینب کو دیکھنا ہوگا اور ان کے جسم کا حسن و قبح جو کچھ بھی تھا آپ پر عیاں تھا اور گواوڑھنی کے ساتھ دیکھا اور اوڑھنی کے بغیر دیکھنا کوئی فرق نہیں رکھتا ، لیکن جب رشتہ اس قدر قریب تھا اور پردہ کی رسم بھی نہیں تھی اور ہر وقت کی میل ملاقات تھی تو اغلب یہ ہے کہ آپ کو کئی دفعہ انہیں بغیر اوڑھنی کے دیکھنے کا اتفاق بھی ہوا ہوگا اور زینب کا آپ کو اندر تشریف لانے کے لئے عرض کرنا ظاہر کرتا ہے کہ اس وقت ان کے بدن پر اتنے کپڑے ضرور تھے کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ہونے کے لئے تیار تھیں۔پس جس جہت سے بھی دیکھا جاوے یہ قصہ ایک محض جھوٹا اور بناوٹی قصہ قرار پاتا ہے جس کے اندر کچھ بھی حقیقت نہیں اور اگر ان دلائل کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس کامل درجہ مقدس اور زاہدانہ زندگی کو بھی مدنظر رکھا جاوے جو آپ کی ہر حرکت و سکون سے عیاں تھی تو پھر تو اس واہیات اور فضول روایت کا کچھ بھی باقی نہیں رہتا اور یہی وجہ ہے کہ محققین نے اس قصہ کو قطعی طور پر جھوٹا اور بناوٹی قرار دیا ہے۔مثلاً علامہ ابن حجر نے فتح الباری میں ، علامہ ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں، علامہ زرقانی نے شرح مواہب میں وضاحت کے ساتھ اس روایت کو سراسر جھوٹا قرار دے کر اس کے ذکر تک کو صداقت کی ہتک سمجھا ہے اور یہی حال دوسرے محققین کا ہے اور محققین پر ہی بس نہیں بلکہ ہر شخص جسے تعصب نے اندھا نہیں کر رکھا ہمارے اس بیان صحیح بخاری کتاب التوحید