سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 48 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 48

۴۸ ہے۔گویا وسعت کے لحاظ سے عرب دُنیا کے بڑے ملکوں میں سے ہے، لیکن آبادی پر نظر ڈالیں تو بعض چھوٹے سے چھوٹے ملک بھی اس سے بڑھے ہوئے نظر آتے ہیں ؛ چنانچہ موجودہ زمانہ میں بھی عرب کی مجموعی آبادی استی لاکھ سے زیادہ نہیں ہے۔اس کی وجہ آگے ظاہر ہو جائے گی۔سطح زمین سطح زمین اور نوعیت اراضی کے لحاظ سے ماہر ان جغرافیہ عرب کو تین قسموں میں تقسیم کرتے ہیں۔اوّل۔ساحلی علاقہ جو ہموار زمین پر مشتمل ہے اور باقی علاقوں کی نسبت معتدل ہے۔دوسرے پہاڑی علاقہ جس کے درمیان کی وادیاں گویا ملک کی جان ہیں۔اور تیسرے صحرائی علاقہ جو بوجہ ریگستان ہونے کے عموماً بنجر اور غیر آباد ہے۔عرب کے مغربی ساحل کے ساتھ ساتھ شمالاً جنوباً پہاڑوں کا ایک وسیع سلسلہ چلا گیا ہے جسے جبل السراة کہتے ہیں۔اس پہاڑی سلسلہ کی بعض چوٹیاں آٹھ ہزار بلکہ دس ہزار فٹ کی بلندی تک پہنچتی ہے مگر اوسطاً بلندی بہت کم ہے۔اس سلسلہ کے قریباً وسط سے ایک اور پہاڑی سلسلہ جو دراصل کئی پہاڑی سلسلوں سے مرکب ہے اور شمالاً جنوباً بھی دُور تک پھیلا ہوا ہے، عرب کو دوٹکڑوں میں کا تھا ہوا ملک کے مشرقی ساحل کی طرف نکل گیا ہے۔اس وسیع علاقہ کو جو عرب کے وسط میں واقع ہے اور سطح سمندر سے خاصا اونچا ہے سطح مرتفع نجد کہتے ہیں۔اس کی اوسط بلندی چار ہزارفٹ سمجھی جاسکتی ہے۔سطح مرتفع نجد کے شمال اور جنوب اور کچھ مشرق میں نہایت وسیع صحرا واقع ہیں۔عرب کا شمالی صحرا بالآ خر شمال میں صحرائے شام سے جاملتا ہے اور جنوبی صحرا جو وسعت میں بہت بڑا ہے اور خالص ریگستان ہے الربع الخالی کے نام سے مشہور ہے۔عرب کے جنوب اور جنوب مشرق میں بھی خاصے اونچے پہاڑی سلسلے ہیں چنانچہ عمان کی بعض چوٹیاں دس ہزار فٹ کی بلندی تک پہنچتی ہیں۔عرب میں قابل ذکر دریا کوئی بھی نہیں ہاں وادیاں اور برساتی نالے ہیں جو بارش کے وقت بہہ نکلتے ہیں اور بعض اوقات سیلاب کی صورت پیدا ہو جاتی ہے، مگر عام طور پر پانی کی اس قدر قلت ہے کہ بعض جگہ سینکڑوں میل تک پانی نہیں ملتا۔کہیں کہیں چشمے ہیں اور انہی پر تمام آبادی کی سیرابی کا دارو مدار ہے۔ایسے چشمے جن کے ارد گرد د درخت اور باغات لگائے جاتے ہیں اور ان کے چاروں طرف میل ہا میل تک بنجر صحرا ہوتا ہے نخلستان کہلاتے ہیں جو عرب میں ایک خاص نعمت سمجھے جاتے ہیں۔عرب میں یمن کا علاقہ سب سے زیادہ زرخیز اور شاداب ہے اور دوسرے علاقہ جات کی نسبت اس میں نالوں اور چشموں کی بھی کثرت ہے۔اسی طرح مکہ سے جنوب مشرق کی طرف ہیں میل کے فاصلہ پر طائف کا علاقہ