سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 614
۶۱۴ اور خیال کا قطعاً کوئی دخل نہیں تھا۔آپ نے زینب کے ساتھ شادی کا فیصلہ فرمایا اور پھر زید کے ہاتھ ہی زینب کو شادی کا پیغام بھیجا۔اور زینب کی طرف سے رضا مندی کا اظہار ہونے پر ان کے بھائی ابواحمد بن جحش نے ان کی طرف سے ولی ہو کر چار سو درہم میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ان کا نکاح کر دیا ہے اور اس طرح وہ قدیم رسم جو عرب کی سرزمین میں راسخ ہو چکی تھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذاتی نمونہ کے نتیجہ میں اسلام میں بیخ و بن سے اکھیڑ کر پھینک دی گئی۔اس جگہ یہ ذکر بھی ضروری ہے کہ عام مؤرخین و محدثین کا یہ خیال ہے کہ چونکہ زینب کی شادی کے متعلق خدائی وحی نازل ہوئی تھی اور خدا کے خاص حکم سے یہ شادی وقوع میں آئی اس لئے ظاہری طور پر ان کے نکاح کی رسم ادا نہیں کی گئی۔مگر یہ خیال درست نہیں ہے۔بے شک خدا کے حکم سے یہ شادی ہوئی اور کہا جا سکتا ہے کہ آسمان پر نکاح پڑھایا گیا مگر اس وجہ سے شریعت کی ظاہری رسم سے جو وہ بھی خدا ہی کی مقرر کردہ ہے آزادی حاصل نہیں ہو سکتی۔چنانچہ ابن ہشام کی روایت جس کا حوالہ اوپر درج کیا گیا ہے اور جس میں ظاہری رسم نکاح کا واقع ہونا بتایا گیا ہے اس معاملہ میں واضح ہے اور کسی شک وشبہ کی گنجائش نہیں رہنے دیتی۔اور یہ جو حدیث میں آتا ہے کہ دوسری امہات المؤمنین کے مقابلہ میں زینب یہ فخر کیا کرتی تھیں کہ ” تمہارے نکاح تمہارے ولیوں نے زمین پر پڑھائے ہیں اور میرا نکاح آسمان پر ہوا ہے اس سے بھی یہ نتیجہ نکالنا درست نہیں کہ زینب کے نکاح کی ظاہری رسم ادا نہیں ہوئی۔کیونکہ باوجود ظاہری رسم کی ادائیگی کے ان کا یہ فخر قائم رہتا ہے کہ ان کا نکاح خدا کے خاص حکم سے آسمان پر ہوا مگر اس کے مقابل پر دوسری امہات المؤمنین کی شادیاں عام اسباب کے ماتحت محض ظاہری رسم کی ادائیگی کے ساتھ وقوع میں آئیں۔ایک دوسری روایت میں آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بغیر اذن کے زینب کے پاس تشریف لے گئے تھے اور اس سے بھی یہ نتیجہ نکالا جاتا ہے کہ ان کے نکاح کی ظاہری رسم ادا نہیں ہوئی۔مگر غور کیا جاوے تو اس بات کو بھی ظاہری رسم کے ادا ہونے یا نہ ہونے کے سوال سے کوئی تعلق نہیں ہے کیونکہ اگر اس سے یہ مراد ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم زینب کے گھر بغیر اجازت چلے گئے تھے تو یہ غلط اور خلاف واقعہ ہے کیونکہ بخاری کی صریح روایت میں یہ ذکر ہے کہ شادی کے بعد زینب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں رخصت ہو کر آئی تھیں نہ کہ آپ ان کے گھر گئے تھے۔تے اور اگر اس روایت سے مسلم کتاب النکاح باب زواج زینب بنت جحش بخاری کتاب التفسیر باب سورۃ احزاب سیرۃ ابن ہشام جلد ۳ حالات ازواج