سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 613 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 613

۶۱۳ قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَتُخْفِي فِي نَفْسِكَ مَا اللَّهُ مُبْدِيْهِ وَتَخْشَى النَّاسَ وَاللَّهُ أَحَقُّ اَنْ تَخْشُهُ یعنی اے نبی ! تو اپنے دل میں چھپائے ہوئے تھا وہ بات جسے خدا نے آخر ظاہر کرنا تھا اور تو لوگوں کی وجہ سے ڈرتا تھا اور یقیناً خدا اس بات کا بہت زیادہ حق دار ہے کہ اس سے ڈرا جاوے۔“ بہر حال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے زید کو تقویٰ اللہ کی نصیحت کر کے طلاق دینے سے منع فرمایا اور آپ کی اس نصیحت کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہوئے زید خاموش ہو کر واپس آگئے مگر ا کھڑی ہوئی طبیعتوں کا ملنا مشکل تھا اور جو بات نہ بنی تھی نہ بنی اور کچھ عرصہ کے بعد زید نے طلاق دے دی۔جب زینب کی عدت ختم ہو چکی تو ان کی شادی کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر پھر وحی نازل ہوئی کہ آپ کو انہیں خود اپنے عقد میں لے لینا چاہئے۔اور اس خدائی حکم میں علاوہ اس حکمت کے کہ اس سے زینب کی دلداری ہو جائے گی اور مطلقہ عورت کے ساتھ شادی کرنا مسلمانوں میں عیب نہ سمجھا جائے گا یہ حکمت مد نظر تھی کہ چونکہ زید آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا متمنی تھا اور آپ کا بیٹا کہلاتا تھا۔اس لئے جب آپ خود اس کی مطلقہ سے شادی فرمالیں گے تو اس بات کا مسلمانوں میں ایک عملی اثر ہوگا کہ منہ بولا بیٹا حقیقی بیٹا نہیں ہوتا اور نہ اس پر حقیقی بیٹوں والے احکام جاری ہوتے ہیں اور آئندہ کے لئے عرب کی جاہلانہ رسم مسلمانوں میں پورے طور پر مٹ جائے گی۔چنانچہ اس بارہ میں قرآن شریف جو تاریخ اسلامی کاسب سے زیادہ صحیح ریکارڈ ہے یوں فرماتا ہے۔فَلَمَّا قَضَى زَيْدُ مِنْهَا وَطَرًا زَ وَجْنُكَهَا لِكَيْ لَا يَكُونَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ حَرَج فِي أَزْوَاجِ أَدْعِيَا بِهِمْ إِذَا قَضَوْا مِنْهُنَّ وَطَرًا وَكَانَ أَمْرُ اللهِ مَفْعُولًا O یعنی جب زید نے زینب سے قطع تعلق کر لیا تو ہم نے زینب کی شادی تیرے ساتھ کر دی تاکہ مومنوں کے لئے اپنے منہ بولے بیٹوں کی مطلقہ بیویوں کے ساتھ شادی کرنے میں کوئی روک نہ رہے۔بعد اس کے کہ وہ منہ بولے بیٹے اپنی بیویوں سے قطع تعلق کر لیں اور خدا کا یہ حکم اسی طرح پورا ہونا تھا۔الغرض اس خدائی وحی کے نازل ہونے کے بعد جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی خواہش سورۃ احزار ۳۸ : : سورۃ احزاب : ۳۸