سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 612 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 612

۶۱۲ ہوئے اور بزعم خود زینب کے سلوک کی شکایت کر کے انہیں طلاق دے دینے کی اجازت چاہی۔اور ایک روایت میں یوں آتا ہے کہ انہوں نے یہ شکایت کی کہ زینب سخت زبانی سے کام لیتی ہے اس لئے میں اسے طلاق دینا چاہتا ہوں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو طبعا یہ حالات معلوم کر کے صدمہ ہوا مگر آپ نے زید کو طلاق دینے سے منع فرمایا۔اور غالبا یہ بات محسوس کر کے کہ زید کی طرف سے نبھاؤ کی کوشش میں کمی ہے آپ نے انہیں نصیحت فرمائی کہ اللہ کا تقویٰ اختیار کر کے جس طرح بھی ہو بھاؤ کی کوشش کروی چنانچہ قرآن شریف میں بھی آپ کے یہ الفاظ مذکور ہوئے ہیں کہ أَمْسِكَ عَلَيْكَ زَوْجَكَ وَاتَّقِ اللہ ہے یعنی اے زید ! اپنی بیوی کو طلاق نہ دو اور خدا کا تقویٰ اختیار کرو۔“ آپ کی اس نصیحت کی وجہ یہ تھی کہ اول تو اصولاً آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم طلاق کو نا پسند فرماتے تھے۔چنانچہ ایک موقع پر آپ نے فرمایا اَبغَضُ الْحَلالِ إِلَى اللَّهِ الطَّلَاقُ۔یعنی ساری حلال چیزوں میں سے طلاق خدا کو زیادہ نا پسند ہے۔اور اسی لئے اسلام میں صرف انتہائی علاج کے طور پر اس کی اجازت دی گئی ہے۔دوسرے جیسا کہ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے امام زین العابدین علی بن حسین کی روایت ہے اور امام زہری نے اس روایت کو مضبوط قرار دیا ہے۔۔چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو پہلے سے یہ وحی الہی ہو چکی تھی کہ زید بن حارثہ بالآخر زینب کو طلاق دے دیں گے اور اس کے بعد زینب آپ کے نکاح میں آئیں گی اس لئے آپ اس معاملہ میں اپنا ذاتی تعلق سمجھتے ہوئے بالکل غیر متعلق اور غیر جانب دارانہ رویہ رکھنا چاہتے تھے اور اپنی طرف سے اس بات کی پوری پوری کوشش کرنا چاہتے تھے کہ زید اور زینب کے تعلق کے قطع ہونے میں آپ کا کوئی دخل نہ ہو اور جب تک نبھاؤ کی صورت ممکن ہو بھاؤ ہوتا رہے اور اسی خیال کے ماتحت آپ نے بڑے اصرار کے ساتھ زید کو یہ نصیحت فرمائی کہ تم طلاق نہ دو اور خدا کا تقویٰ اختیار کر کے جس طرح بھی ہو سکے نبھاؤ کرو۔آپ کو یہ بھی اندیشہ تھا کہ اگر زید کی طلاق کے بعد زینب آپ کے عقد میں آئیں تو لوگوں میں اس کی وجہ سے اعتراض ہوگا کہ آپ نے اپنے منتلیٹی کی مطلقہ سے شادی کر لی ہے اور خواہ نخواہ ابتلاء کی صورت پیدا ہوگی۔چنانچہ ل بخاری کتاب التوحید باب كان عرشه على الماء۔بخاری کتاب التوحید و فتح الباری جلد ۸ و حاکم بروایت لباب النقول باب تفسیر سورۃ احزاب : سورۃ احزاب : ۳۸ زرقانی جلد ۳ حالات زینب بنت جحش و فتح الباری جلد ۸ صفحه ۴۰۳ : فتح الباری جلد ۸ صفحه ۴۰۳ ۵ : ابوداود کتاب الطلاق