سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 607
۶۰۷ گویا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ماں کی قائم مقام تھیں کیونکہ آپ کے دادا عبدالمطلب کی وفات کے بعد انہوں نے ہی آپ کو اپنے گھر میں اپنے بچوں کی طرح پالا تھا اور ویسے بھی وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت محبت رکھتی تھیں۔اس لئے ان کی وفات کا آپ کو بہت صدمہ ہوا اور ان کی نعش کو دیکھ کر آپ کی آنکھیں پُر آب ہو گئیں۔وفور محبت میں آپ نے اپنی قمیض اتار کر انہیں پہنائی اور خود ان کی قبر میں اترے اورسب تکنین وتدفین کا انتظام خود کیا۔اور جب وہ قبر میں اتاری گئیں تو آپ نے رقت بھری آواز میں فرمایا جَزَاكِ اللَّهُ مِنْ أُمِّ خَيْرًا لَقَدْ كُنْتِ خَيْرَامٍ ، خدا تعالیٰ تمہیں میری طرف سے میری ایک بہت اچھی ماں بننے کی بہترین جزا دے تم حقیقتا ایک نہایت ہی اچھی ماں تھیں۔کتاب کے حصہ اول میں یہ بیان کیا جا چکا ہے کہ فاطمہ بنت اسد اور ابوطالب کی نرینہ اولا دچار لڑکوں یعنی طالب ، عقیل، جعفر اور حضرت علی پر مشتمل تھی اور ایک لڑکی تھی جس کا نام ام ہانی تھا۔غزوہ دومۃ الجندل اور اسلامی جنگوں اب تک جو جنگی کارروائیاں کی گئیں تھیں وہ بالواسطہ یا بلا واسطه محض دفاع کے طور پر تھیں۔اسی دفاع کا حصہ میں ایک نیا اضافہ ربیع الاول ۵ ہجری وہ ہمیں تھیں جو بعض قبائل عرب کے ساتھ امن وامان کے معاہدے کرنے کے لئے اختیار کی گئیں۔نیز اس وقت تک جو سفر اختیار کئے گئے تھے وہ سب مرکزی حجاز اور نجد کے علاقہ سے تعلق رکھتے تھے لیکن اب یہ میدان وسیع ہونے لگا۔چنانچہ دومتہ الجندل جس کے غزوہ کا ہم اس وقت ذکر کرنے لگے ہیں۔وہ شام کی سرحد کے قریب واقع تھا اور مدینہ سے اس کا فاصلہ پندرہ سولہ دن کی مسافت سے کم نہ تھا۔اس غزوہ کی وجہ یہ ہوئی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ اطلاع موصول ہوئی کہ دومۃ الجندل میں بہت سے لوگ جمع ہو کر لوٹ مار کر رہے ہیں اور جو مسافر یا قافلہ وغیرہ وہاں سے گزرتا ہے اس پر حملہ کر کے اسے تنگ کرتے اور اس کا مال و متاع لوٹ لیتے ہیں۔اور ساتھ ہی یہ اندیشہ بھی پیدا ہوا کہ کہیں یہ لوگ مدینہ کا رخ کر کے مسلمانوں کے لئے موجب پریشانی نہ ہوں۔چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جنگی کارروائیوں کی ایک اہم غرض قیام امن بھی تھی اس لئے باوجود اس کے کہ ان لوگوں کی اس لوٹ مار سے مدینہ کے مسلمانوں کو حقیقتاً کوئی زیادہ اندیشہ نہیں تھا۔آپ نے صحابہ میں تحریک فرمائی کہ اس ڈاکہ زنی اور ظلم کے سلسلہ کو روکنے کے لئے وہاں چلنا چاہئے چنانچہ آپ کی تحریک پر ایک ہزار صحابی اس ل : تاریخ الخمیس جلد اصفحه ۵۲۶ : ابن سعد و معجم البلدان : ابن سعد