سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 606 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 606

۶۰۶ نہیں رکھتا مگر افسوس ہے کہ اس تاریخی تصنیف میں اس وسیع اور علمی مضمون کے لئے اس مختصر اشارے سے زیادہ کی گنجائش نہیں ورنہ اس دعوی کے ثبوت میں دلائل کا ایک سورج چڑھایا جا سکتا ہے۔اب ہم اپنے اصل مضمون کی طرف لوٹتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک اس بین الاقوام معاہدہ نے جو ہجرت کے بعد مدینہ میں ہوا تھا بین الاقوام قاضی کی حیثیت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک طرح مدینہ کی مختلف اقوام میں ایک پولیٹکل لیڈر اور انتظامی حاکم کی حیثیت دے دی تھی اور آپ اس بین الاقوام جمہوری سلطنت کے گویا صدر قرار پائے تھے جو مدینہ میں ہجرت کے بعد قائم ہوئی تھی۔اس پوزیشن میں اہم مقدمات بھی آپ ہی کے سامنے پیش ہونے لگ گئے تھے اور آپ ہر قوم کے ضابطہ عدالت کے ماتحت ان کا فیصلہ فرماتے تھے۔چنانچہ روایت آتی ہے کہ ۴ ہجری کے آخر میں آپ کے سامنے ایک یہودی مرد اور یہودی عورت کا ایک مقدمہ پیش ہوا جس میں ان کے خلاف زنا کا الزام ثابت کیا گیا تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودی علماء سے پوچھا کہ اس بارہ میں موسوی شریعت کیا فتویٰ دیتی ہے۔انہوں نے دھو کے اور افترا کے طریق پر یہ جواب دیا کہ جو شخص زنا کرے اسے ہمارے ہاں منہ کالا کر کے اور سواری پر الٹا سوار کر کے پھرایا جاتا ہے۔اس وقت عبد اللہ بن سلام جو ایک یہودی عالم تھے اور اب مسلمان ہو چکے تھے پاس ہی بیٹھے تھے۔انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! یہ لوگ غلط کہتے ہیں۔تورات میں زنا کی سزا سنگسار کرنا لکھی ہے۔چنانچہ تو رات منگوائی گئی اور گو یہودیوں نے بہت پردہ ڈالنے کی کوشش کی حتی کہ بہانے بہانے سے اس آیت پر ہاتھ رکھ کر اسے چھپانا بھی چاہامگر عبداللہ بن سلام نے یہ صاف طور پر دکھا دیا کہ از روئے تو رات زنا کی سزار حجم ہے اور ان کو شرمندہ ہونا پڑا اور چونکہ یہ معاہدہ تھا کہ ہر قوم کے مقدمات اس کے اپنے قانون کے مطابق فیصلہ کئے جائیں گے اور اسلام میں تو ابھی تک زنا وغیرہ کی حدود کے متعلق احکام بھی نازل نہیں ہوئے تھے اس لئے آپ نے یہ فیصلہ فرمایا کہ یہودی شریعت کے مطابق ان دونوں کو سنگسار کر دیا جاوے۔چنانچہ وہ دونوں مرد و عورت سنگسار کر دئے گئے۔یہ ۴ ہجری کے آخر کا واقعہ ہے۔حضرت علی کی والدہ کی وفات اسی سال ۴ ہجری کے آخر میں حضرت علیؓ کی عمر رسیدہ والدہ نے جن کا نام فاطمہ بنت اسد تھا مدینہ میں انتقال کیا۔یہ بزرگ خاتون بخاری کتاب المحاربین و تاریخ الخمیس حالات ۴ ھ