سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 47
۴۷ عرب کا ملک اور اس کے باشندے محل وقوع اور حد ودار بعہ یر اعظم ایشیا کے نقشہ پر اگر آپ نظر ڈالیں تو آپ دیکھیں گے کہ اس کے جنوب مغرب میں ایک جزیرہ نما واقع ہے جو وسعت رقبہ کے لحاظ سے دُنیا کے تمام جزیرہ نماؤں میں سب سے بڑا ہے۔یہ عرب کا ملک ہے، جہاں اسلام پیدا ہوا اور جہاں اس نے اپنی طفولیت کے ایام گزارے۔عرب کی وجہ تسمیہ کے متعلق اختلاف ہے۔بعض کے نزدیک اس کا نام عرب اس لئے پڑا ہے کہ عربی زبان اصول فصاحت و بلاغت کے لحاظ سے ایک ممتاز حیثیت رکھتی ہے۔حتی کہ بعض محققین عربی کو اُم الالسنہ یعنی تمام زبانوں کی ماں قرار دیتے ہیں۔یا اور چونکہ لفظ عرب کے روٹ میں فصاحت و بلاغت کے معنے پائے جاتے ہیں۔اس لئے اس زبان کے بولنے والی قوم اور ملک کا نام عرب مشہور ہو گیا ہے۔ایک دوسرے گروہ کا خیال ہے کہ غیر آباد اور جنگلی حصہ کی زیادتی کی وجہ سے اس کا یہ نام پڑا ہے۔کیونکہ عرب کے معنے ایک غیر ذی زرع علاقہ کے بھی ہیں۔جائے وقوع کے لحاظ سے عرب کا ملک قریباً نصف منطقہ حارہ میں واقع ہے اور نصف منطقہ معتدلہ میں۔گو یا خط سرطان اس کے وسط سے گذرتا ہے۔عرب کی جنوبی اور شمالی حد و دعلی الترتیب ۱۳ عرض بلد شمالی اور ۳۳ عرض بلد شمالی ہیں اور غربی اور شرقی حدود علی الترتیب ۳۳ اور ۶۰ طول بلد شرقی ہیں۔حد و دار بعہ عرب کی یہ ہیں۔مشرق میں خلیج فارس اور خلیج عثمان۔مغرب میں بحر احمر ہے۔جنوب میں بحر ہند ہے اور شمال میں شام اور عراق ہیں۔شکل اور رقبہ عرب کی شکل ایک بے قاعدہ سے مستطیل کی ہے جس کے تین طرف پانی ہے اور ایک طرف خشکی۔ساحل کی لمبائی ملک کی وسعت کے لحاظ سے بہت کم ہے جس کا لازمی نتیجہ عمدہ بندرگاہوں کی کمی ہے۔عرب کا رقبہ تقریب بارہ لاکھ مربع میل ہے اور طول اوسطاً سولہ سومیل ہے اور عرض اوسطاً سات سو میل لے: دیکھو من الرحمن مصنفہ مقدس بانی سلسلہ احمدیہ قادیان۔