سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 603
۶۰۳ آیات کا نزول ہوتا جن میں صرف عقیدہ کی درستی مدنظر ہے اور مشرکانہ خیالات کو مٹا کر تو حید کو قائم کیا گیا ہے اور اس کے بعد آہستہ آہستہ اسلامی طریق عبادات اور اسلامی طریق معاملات اور اسلامی طریق تمدن اور اسلامی طریق سیاست کے متعلق اوامر ونواہی نازل ہوتے۔چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔لیکن جب ایک جماعت اسلامی شریعت کی حامل تیار ہوگئی اور آئندہ پھیلاؤ اور ترقی کے لئے ایک وجود بطور تخم کے یعنی ایک نیوکلیئس (NUCLEUS تیار ہو گیا تو اب اس تخم یا نیوکلیکس کی آئندہ ترقی کے لئے وہ ابتدائی ترتیب نزول غیر طبعی اور ناموزوں تھی۔اس لئے اسے بدل کر وہ ترتیب دے دی گئی جو اس کے لئے مناسب تھی۔چنانچہ قرآن شریف کی موجودہ ترتیب بالکل اس اصول کے ماتحت ہے جو ایک تیار شدہ جماعت کے استحکام اس کے پھیلاؤ اور ترقی کے لئے موزوں ترین ہے۔دوسرا اصول نزول کی ترتیب کو بدل کر دوسری ترتیب کے اختیار کرنے میں یہ مد نظر تھا کہ نزول کی ترتیب زیادہ تر ان حالات کے مطابق چلتی تھی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کو پیش آتے تھے۔مثلاً چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مکی زندگی میں ابھی کفار پر اتمام حجت ہو رہا تھا اور مسلمانوں کو صبر وشکیب کے سانچے میں ڈھال کر نکالنا مقصود تھا۔اس لئے مکی آیات میں جہاد کی تعلیم نہیں دی گئی بلکہ صبر و برداشت کی تعلیم پر زور ہے۔لیکن جب اتمام حجت ہو چکا اور صحابہ بھی صبر و برداشت کے سانچے میں ڈھل چکے اور کفار کے مظالم سے مسلمانوں کو اپنا وطن تک چھوڑنا پڑا اور ظالم کی سزا کا وقت آگیا تو اس وقت جہاد کی آیات نازل ہوئیں اسی طرح مکہ میں چونکہ مسلمانوں کی کوئی جماعت بصورت جمعیت نہیں تھی اور کفار کے مظالم نے انہیں بالکل منتشر کر رکھا تھا۔یعنی ان کی کوئی اجتماعی زندگی نہیں تھی اس لئے مکہ میں اسلامی طریق تمدن و معاملات کے متعلق آیات نازل نہیں ہوئیں۔لیکن جب مدینہ میں مسلمانوں کو ایک اجتماعی زندگی نصیب ہوئی تو اس کے مناسب حال آیات کا نزول ہوا اگر اس نزول میں حالات کی مناسبت اور مطابقت کو محوظ نہ رکھا جاتا تو یقینا ابتدائی مسلمانوں کے لئے نئی شریعت کو اپنے اندر جذب کرنا اور اس پر صحیح طور پر عامل ہونا سخت مشکل ہو جاتا۔لہذا قرآن کے نزول کوحتی الوسع حالات پیش آمدہ کے ساتھ ساتھ چلایا گیا تھا تا کہ اس کی تعلیم صحابہ میں جذب ہوتی جاوے لیکن جب سب نزول ہو چکا اور ایک جماعت قرآنی شریعت کی حامل وجود میں آگئی تو پھر اس ترتیب کو قائم رکھنا ضروری نہ تھا بلکہ پھر اس بات کی ضرورت تھی کہ آئندہ کی مستقل ضروریات کے مطابق اسے ترتیب دی جاوے۔چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔بخاری کتاب فضائل القرآن باب تالیف القرآن و فتح الباری جلد ۹ صفحه ۳۷