سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 602
۶۰۲ کے نزول کی ترتیب کے مطابق نہیں ہے۔دوم نہ ہی یہ ترتیب سورتوں کے طول وقصر کے لحاظ سے ہے بلکہ سوم یہ کوئی اور ہی ترتیب ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خود خدائی ارشاد کے ماتحت مقرر فرمائی تھی۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ ترتیب کیا ہے؟ اس کے جواب میں اس جگہ صرف اس قدر اشارہ کیا جا سکتا ہے کہ قرآن شریف جو خدا کا قول ہے اس میں اسی قسم کا اصول ترتیب مدنظر رکھا گیا ہے جو خدا کے فعل یعنی صحیفہ قدرت میں پایا جاتا ہے یعنی جس طرح اس جسمانی عالم میں دنیا کی مادی زندگی اور ترقی و بہبودی کے سامان و ذرائع مہیا کئے جا کر اس میں ایک ترتیب رکھی گئی ہے اسی طرح کی خدا کے قول یعنی قرآن شریف میں ایک ترتیب ہے جو علم النفس کے ان ابدی اصول کے ماتحت قائم کی گئی ہے جو دنیا کی اخلاقی اور تمدنی اور روحانی زندگی اور اصلاح و ترقی کے لئے بہترین اثر رکھتے ہیں اور لطف یہ ہے کہ جس طرح بعض لوگوں کو اس عالم جسمانی میں کوئی ترتیب نظر نہیں آتی اسی طرح روحانی بینائی سے محروم لوگوں کو قرآنی ترتیب بھی نظر نہیں آتی۔مگر جو لوگ گہرے مطالعہ کے عادی ہیں اور روحانی کلام کی حقیقت کو سمجھنے کے لئے اپنے اندر ضروری بینائی اور تقدس و طہارت رکھتے ہیں وہ اس ترتیب کو علی قدر مراتب سمجھتے اور اس کے اثر کو اپنے نفوس میں محسوس کرتے ہیں۔اس جگہ اگر یہ سوال پیدا ہو کہ اگر موجودہ ترتیب ہی اصلاح وتربیت اور روحانی تاثیر کے لحاظ سے بہترین تھی تو پھر اسی کے مطابق قرآن کا نزول کیوں نہ ہوا تا کہ صحابہ کی جماعت بھی جو قرآنی تعلیم کی سب سے پہلی حامل بنتی تھی ان اثرات سے متمتع ہوتی۔تو اس کا جواب یہ ہے کہ صحابہ کے حالات اور بعد میں آنے والے مسلمانوں کے حالات میں اختلاف ہے۔صحابہ کے لئے وہی ترتیب بہترین تھی جس کے مطابق قرآن شریف نازل ہوا۔مگر جب ایک ابتدائی جماعت قائم ہوگئی تو پھر آئندہ کے لئے مستقل طور پر وہ ترتیب بہترین تھی جو موجودہ قرآن میں پائی جاتی ہے اور یہ اختلاف دواصول کے ماتحت ہے۔اول تو بوجہ اس کے کہ صحابہ کی جماعت وہ پہلی جماعت تھی جو اسلامی شریعت کے مطابق قائم ہوئی اور اس سے پہلے کوئی جماعت اسلامی شریعت کی حامل نہیں تھی اور نہ ہی دنیا میں اسلامی شریعت کا وجود تھا۔اور قرآن کے ذریعہ سے پہلے طریق و تمدن کو مٹاکر ایک بالکل ہی نئے طریق و تمدن کی بنیاد پڑنی تھی، اس لئے ضروری تھا کہ اس وقت کے لوگوں کے سامنے ان کی ذہنیت اور ماحول کے مناسب حال قرآنی احکامات کا نزول ہوتا تا کہ وہ اس کے مطابق اپنی زندگیوں کو بدلنے اور نئی تعلیم کو اپنے اندر جذب کرنے میں آسانی پاتے اور ظاہر ہے کہ اس کے لئے بہترین صورت یہ تھی کہ سب سے پہلے اس قسم کی