سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 595 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 595

۵۹۵ غزوہ بدرالموعد ذ وقعده ۴ ہجری جنگ اُحد کے حالات میں یہ ذکر گزر چکا ہے کہ میدان سے لوٹتے ہوئے ابوسفیان نے مسلمانوں کو یہ چیلنج دیا تھا کہ آئندہ سال بدر کے مقام پر ہماری تمہاری جنگ ہوگی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس چیلنج کو قبول کرنے کا اعلان فرمایا تھا۔اس لئے دوسرے سال یعنی ۴ھ ہجری میں جب شوال کے مہینہ کا آخر آیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ڈیڑھ ہزار صحابہ کی جمعیت کو ساتھ لے کر مدینہ سے نکلے اور آپ نے اپنے پیچھے عبد اللہ بن عبد اللہ بن ابی کو امیر مقرر فرمایا ہے دوسری طرف ابوسفیان بن حرب بھی دو ہزار قریش کے لشکر کے ساتھ مکہ سے نکلا مگر باوجود اُحد کی فتح اور اتنی بڑی جمعیت کے ساتھ ہونے کے اس کا دل خائف تھا اور اسلام کی تباہی کے در پے ہونے کے باوجود وہ چاہتا تھا کہ جب تک بہت زیادہ جمعیت کا انتظام نہ ہو جاوے وہ مسلمانوں کے سامنے نہ ہو۔چنانچہ ابھی وہ مکہ میں ہی تھا کہ اس نے ایک شخص نعیم نامی کو جو ایک غیر جانبدار قبیلہ سے تعلق رکھتا تھا مدینہ کی طرف روانہ کر دیا اور اسے تاکید کی کہ جس طرح بھی ہو مسلمانوں کو ڈرا دھمکا کر اور جھوٹ سچ باتیں بتا کر جنگ سے نکلنے کے لئے باز رکھے۔چنانچہ یہ شخص مدینہ میں آیا اور قریش کی تیاری اور طاقت اور ان کے جوش وخروش کے جھوٹے قصے سنا سنا کر اس نے مدینہ میں ایک بے چینی کی حالت پیدا کردی۔حتی کہ بعض کمزور طبیعت لوگ اس غزوہ میں شامل ہونے سے خائف ہونے لگے لیکن جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نکلنے کی تحریک فرمائی اور آپ نے اپنی تقریر میں فرمایا کہ ہم نے کفار کے چیلنج کو قبول کر کے اس موقع پر نکلنے کا وعدہ کیا ہے، اس لئے ہم اس سے مختلف نہیں کر سکتے اور خواہ مجھے اکیلا جانا پڑے میں جاؤں گا اور دشمن کے مقابل پرا کیلا سینہ سپر ہوں گا، تو لوگوں کا خوف جاتا رہا اور وہ بڑے جوش اور اخلاص کے ساتھ آپ کے ساتھ نکلنے کو تیار ہو گئے۔بہر حال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ڈیڑھ ہزار صحابہ کے ساتھ مدینہ سے روانہ ہوئے اور دوسری طرف ابوسفیان اپنے دو ہزار سپاہیوں کے ہمراہ مکہ سے نکلا لیکن خدائی تصرف کچھ ایسا ہوا کہ مسلمان تو بدر میں اپنے وعدہ پر پہنچ گئے ،مگر قریش کا لشکر تھوڑی دور آ کر پھر مکہ کو واپس لوٹ گیا۔اور اس کا قصہ یوں ہوا کہ جب ابوسفیان کو نعیم کی ناکامی کا علم ہوا تو وہ دل میں خائف ہوا اور اپنے لشکر کو یہ تلقین کرتا ہوا راستہ سے لوٹا کر واپس لے گیا کہ اس سال قحط بہت ہے اور لوگوں کو تنگی ہے اس لئے اس وقت لڑنا ٹھیک ابن ہشام : ابن سعد