سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 46
۴۶ ضبوط تحریر میں آتا گیا۔یہ وہ کلید عمومی (ماسٹر کی) ہے جس سے سیرۃ رسُول اور تاریخ اسلام کی ہرا لجھن یقینی صحت کے ساتھ کھولی جاسکتی ہے۔دوسرے درجہ پر حدیث ہے جس کے سلسلہ روایت میں محدثین نے اپنی طرف سے بڑی احتیاط کے ساتھ کام لیا ہے، مگر پھر بھی بہر حال وہ قرآن شریف کی قطعیت کو نہیں پہنچتی اور بعض کمز ور روایتیں اس مجموعہ میں راہ پاگئی ہیں۔تیسرے درجہ پر وہ تفسیری روایات ہیں جو قرآن شریف کی تشریح و توضیح میں وارد ہوئی ہیں، مگر ان میں کمزور روایتوں کا حصہ بھی شامل ہو گیا ہے۔چوتھے درجہ پر سیرۃ و تاریخ کی ابتدائی کتا بیں ہیں جو تاریخی لحاظ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرۃ کی اصل بنیاد ہیں مگر بدقسمتی سے یہی وہ ذخیرہ ہے جس میں کمزور اور ضعیف روایتوں نے زیادہ دخل پایا ہے، اس لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سوانح نگار کا یہ پہلا فرض ہے کہ سیرۃ و تاریخ کی روایتیوں کی جرح و تعدیل کے لیے قرآن شریف و حدیث کی شمع کو ہر وقت اپنے ہاتھ میں رکھے ورنہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت و سوانح کا صحیح مرقع کبھی بھی تیار نہیں ہو سکے گا۔اس اصولی بنیاد کے قائم کرنے کے بعد ہم اپنے اصل موضوع کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔وما توفيقنا الا بالله و نرجو منه خيرًا Master Key :