سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 591 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 591

۵۹۱ دینے کے قبیلہ عامر کے دو مقتولوں کی دیت کا بھی ذکر کیا ہے یا اس لئے ہماری رائے میں اگر دونوں روایتوں کو صحیح سمجھ کر ملا لیا جاوے تو کوئی حرج لازم نہیں آتا۔البتہ اس سے غزوہ کے زمانہ کے متعلق ان روایتوں میں سے کسی ایک روایت کو ترجیح دینی پڑے گی کیونکہ زمانہ کے لحاظ سے ہر دوروایات کو صحیح تسلیم نہیں کیا جاسکتا۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بنونضیر کی طرف سے مختلف مواقع پر مختلف اسباب جنگ کے پیدا ہوتے رہے ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم انہیں ڈھیل دیتے رہے اور درگزر سے کام فرمایا لیکن جب آخری سبب بئر معونہ کے واقعہ کے بعد ہوا ، تو آپ نے انہیں ان کی ساری کارروائیاں جتلا کر ان کے خلاف فوج کشی فرمائی۔گویا یہ جتنے مختلف اسباب بیان ہوئے ہیں یہ سب اپنی اپنی جگہ درست تھے مگر آخری تحریکی سبب وہ تھا جو بنو عامر کے دو مقتولوں کی دیت کے مطالبہ کے وقت پیش آیا۔واللہ اعلم بالصواب۔یہ بھی یا درکھنا چاہئے کہ کعب بن اشرف جس کے قتل کا ذکر اوپر گزر چکا ہے اور جس نے مسلمانوں کے خلاف گویا ایک آگ بھڑ کا رکھی تھی وہ بھی بنو نضیر سے تعلق رکھتا تھا۔بہر حال یہود کے قبیلہ بنو نضیر نے خلاف عہدی اور غداری کی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کا منصو بہ باندھا اور جب ان سے یہ کہا گیا کہ ان حالات میں تمہارا مدینہ میں رہنا ٹھیک نہیں ہے تم یہاں سے چلے جاؤ تو انہوں نے تمرد اور سرکشی سے کام لیا اور تجدید معاہدہ سے انکار کر کے جنگ کے لئے تیار ہو گئے۔اس لئے مجبوراً آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی ان کے خلاف میدان میں نکلنا پڑا۔چنانچہ آپ نے اپنے پیچھے مدینہ کی آبادی میں ابن مکتوم کو امام صلوۃ مقرر فرمایا اور خود صحابہ کی ایک جماعت کے ساتھ مدینہ سے نکل کر بنو نضیر کی بستی کا محاصرہ کر لیا اور بنو نضیر اس زمانہ کے طریق جنگ کے مطابق قلعہ بند ہو گئے۔غالباً اسی موقع پر عبداللہ بن ابی بن سلول اور دوسرے منافقین مدینہ نے بنونضیر کے رؤساء کو یہ کہلا بھیجا کہ تم مسلمانوں سے ہرگز نہ دبنا، ہم تمہارا ساتھ دیں گے اور تمہاری طرف سے لڑیں گے۔لیکن جب عملاً جنگ شروع ہوئی تو بنو نضیر کی توقعات کے خلاف ان منافقین کو یہ جرأت نہ ہوئی کہ کھلم کھلا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف میدان میں آئیں ہے اور نہ بنو قریظہ کو یہ ہمت پڑی کہ مسلمانوں کے خلاف میدان میں آکر بنو نضیر کی بر ملا مد دکریں۔گو دل میں وہ ان کے ساتھ تھے اور درپردہ ان کی امداد بھی کرتے تھے جس کا مسلمانوں کو علم ہو گیا تھا۔بہر حال بنو نضیر کھلے میدان میں مسلمانوں کے مقابل پر نہیں نکلے بخاری حالات غزوہ بنو نضیر بخاری حدیث بنی التغير ومسلم باب اخراج الیہود ابن ہشام