سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 590
۵۹۰ لے آئیں۔ہماری طرف سے بھی تمہیں علماء ہوں گے اور پھر باہم تبادلہ خیالات ہو جائے گا۔ایک طرف تو انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ پیغام بھیجا اور دوسری طرف یہ تجویز پختہ کر کے اس کے مطابق پوری پوری تیاری بھی کر لی کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائیں تو یہی یہودی علماء جن کے پاس خنجریں پوشیدہ ہوں موقع پا کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کر دیں مگر قبیلہ بنو نضیر کی ایک عورت نے ایک انصاری شخص کو جو رشتہ میں اس کا بھائی لگتا تھا اپنے قبیلہ والوں کے اس بدارا دے سے بر وقت اطلاع دے دی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جو بھی گھر سے نکلے ہی تھے یہ اطلاع پاکر واپس تشریف لے آئے ہے اور فوراً تیاری کا حکم دیا اور صحابہ کی ایک جماعت کو ساتھ لے کر بنونضیر کے قلعوں کی طرف روانہ ہو گئے اور جاتے ہی ان کا محاصرہ کر لیا اور پھر ان کے رؤساء کو پیغام بھیجا کہ جو حالات ظاہر ہوئے ہیں ان کے ہوتے ہوئے میں تمہیں مدینہ میں نہیں رہنے دے سکتا جب تک کہ تم از سرنو میرے ساتھ معاہدہ کر کے مجھے یقین نہ دلاؤ کہ آئندہ تم بدعہدی اور غداری نہیں کرو گے مگر یہود نے معاہدہ کرنے سے صاف انکار کر دیا اور اس طرح جنگ کی ابتدا ہوگئی اور بنونضیر نہایت متمردانہ طریق پر قلعہ بند ہو کر بیٹھ گئے۔دوسرے دن آپ کو یہ اطلاع ملی یا آپ نے قرآئن سے خود معلوم کر لیا کہ یہود کا دوسرا قبیلہ بنو قریظہ بھی کچھ بگڑا بیٹھا ہے۔چنانچہ آپ صحابہ کے ایک دستہ کو ساتھ لے کر بنو قریظہ کے قلعوں کی طرف روانہ ہوئے اور ان کا محاصرہ کر لیا۔بنوقریظہ نے جب دیکھا کہ راز کھل گیا ہے تو وہ ڈر گئے اور معافی کے خواستگار ہو کر از سر نو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ امن وامان اور باہمی اعانت کا معاہدہ کر لیا۔جس پر آپ نے ان کا محاصرہ اٹھا لیا اور پھر بنونضیر کے قلعوں کی طرف تشریف لے آئے ،لیکن بنونضیر بدستور اپنی ضد اور عداوت پر اڑے رہے اور ایک باقاعدہ جنگ کی صورت پیدا ہوگئی۔۔سیہ وہ دو مختلف روایتیں ہیں جو غزوہ بنو نضیر کے باعث کے متعلق بیان کی گئی ہیں اور گو تاریخی لحاظ سے مؤخر الذکر روایت زیادہ درست اور صحیح ہے اور دوسری احادیث میں بھی زیادہ تر اسی روایت کی تائید پائی جاتی ہے لیکن چونکہ پہلی روایت کو مؤرخین نے زیادہ کثرت کے ساتھ قبول کیا ہے اور بعض صحیح احادیث میں بھی اس کی صحت کی طرف اشارہ پایا جاتا ہے۔چنانچہ امام بخاری نے باوجود زہری کے قول کو ترجیح : ابوداؤ د کتاب الخراج باب خبر النفير ابوداؤ د کتاب الخراج باب خبر النفير ابن مردویہ بحوالہ زرقانی حالات بنو نضیر