سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page vi
اس کتاب کی تصنیف سے میری یہ غرض ہے کہ مسلمان نوجوانوں کو جو عموماً آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات زندگی اور ابتدائی اسلامی تاریخ سے بالکل بے خبر ہیں مختصر طور پر عام فہم اور سادہ مگر دلچسپ پیرا یہ میں صحیح حالات سے واقف کیا جاوے اور نیز یہ بھی کہتا اس ذریعہ سے خدا چاہے تو میرے لئے سعادت اخروی کا سامان پیدا ہو۔یہ ایک نہایت تکلیف دہ منظر ہے کہ ہمارے نوجوان دیگر اقوام و مذاہب کے بادشا ہوں، جرنیلوں اور مد بروں کے حالات سے تو واقف ہیں اور ان کی سوانح عمریاں پڑھتے ہیں مگر اپنے آقا اور مقتدا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات زندگی سے قطعا نا واقف ہیں۔اس کی کئی ایک وجوہات ہیں مگر ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ابھی تک اُردو زبان میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی بھی ایسی سوانح عمری نہیں لکھی گئی جو اس زمانہ کی طبائع کو اپنی طرف کھینچ سکے۔مولا ناشبلی کی تصنیف جس کے بعض حصے ابھی تک معرض طبع میں نہیں آئے میرے اس ریمارک سے مستثنی ہے مگر بعض وجوہات سے وہ بھی عام اسلامی پبلک کے دائرہ تمتمع میں نہیں آ سکتی۔بہر حال میری طبیعت نے اردو لٹر پچر میں ایک کمی کو محسوس کیا ہے جسے پورا کرنے کی میں نے حتی الوسع کوشش کی ہے۔اگر میں اس کوشش میں کامیاب ہو گیا ہوں تو زہے قسمت اور اگر نہیں تو خدا سے دعا ہے کہ میری یہ ادھوری اور ناقص کوشش کسی ایسے نیک دل میں تحریک کرے کہ جو اس کمی کو پورا کر سکے۔میں نے اس کتاب کی تیاری کے لئے کسی ایک کتاب پر بھروسہ نہیں کیا خصوصاً متأخرین کی تصنیفات کو بغیر اپنی مستقل تحقیق کے ہرگز قابل اعتماد نہیں سمجھا۔متقدمین میں سے چار کتب تاریخی طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سوانح کے لئے اصل مآخذ مجھی گئی ہیں۔اعنی اول سیرۃ ابن ہشام جو سیرۃ ابن اسحاق سے ماخوذ ہے۔دوسرے طبقات ابن سعد۔تیسرے طبری اور چوتھے واقدی۔ان سب کا میں نے حتی الوسع با قاعدہ مطالعہ کیا ہے اور سب سے فائدہ اُٹھایا ہے۔ان کتب کے بیان کردہ واقعات کی چھان بین اور تحقیق کے واسطے میں نے قرآن شریف اور کتب احادیث خصوصاً صحاح ستہ کو حتی الوسع ہمیشہ اپنے سامنے رکھا ہے۔متآخرین کی کتب میں سے زرقانی، شرح مواہب اللہ نیہ، تاریخ الکامل ابن اثیر، اسد الغابہ اور اصابہ فی معرفۃ الصحابہ اور سیرۃ النبی مصنفہ مولانا شبلی سے میں نے بہت فائدہ اُٹھایا ہے۔یورپ کے اعتراضات اور طرز تحریر کو مد نظر رکھنے کے واسطے میں نے لائف آف محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) مصنفہ سر ولیم میور، محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) مصنفہ پروفیسر مارگولیس اور بعض دیگر تصنیفات کو زیر مطالعہ رکھا ہے۔