سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 575
۵۷۵ تمہیں خدا کے ذکر اور نماز سے غافل کرتا ہے پس تم ان چیزوں سے مجتنب رہو۔جب یہ آیت اتری تو مسلمانوں کی تسلی ہو گئی اور وہ شراب کو قطعی طور پر حرام سمجھ کر اس سے باز آ گئے۔" بلکہ اس کے بعد انہیں شراب سے ایسی دوری پیدا ہو گئی کہ جو مسلمان ایسی حالت میں غزوہ اُحد میں شہید ہوئے تھے کہ انہوں نے شراب پی ہوئی تھی انہیں ان شہداء کے متعلق بے چینی پیدا ہونے لگی کہ ان کا کیا حشر ہوگا ، جس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ حرمت سے پہلے پہلے لوگوں نے جو کچھ کھایا پیا ہے اس کی وجہ سے ان پر کوئی ملامت نہیں۔الغرض ۳ ہجری کے آخر یا ۴ ہجری کے شروع میں مگر بہر حال غزوہ اُحد کے بعد شراب نوشی اسلام میں قطعی طور پر حرام ہوگئی اور شراب کی تعریف میں ہر وہ چیز شامل قرار دی گئی جو نشہ پیدا کرتی اور انسان کی عقل پر پردہ ڈال دیتی ہے۔اور اس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس چیز کی جڑ پر تبر رکھ دیا جو صحیح طور پر بدیوں کی ماں کہلاتی ہے۔اس جگہ ہمیں اس بحث میں پڑنے کی ضرورت نہیں کہ از روئے عقل شراب نوشی کیسی ہے۔قرآن نے خود اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ شراب میں بعض فوائد بھی ہیں مگر یہ کہ اس کے نقصانات اس کے فوائد سے زیادہ ہیں اور اصولی طور پر انسانی عقل اس مسئلہ پر اس سے زیادہ روشنی نہیں ڈال سکتی اور یہ ایک خوشی کا مقام ہے کہ ہزاروں سالوں کے تلخ تجربات کے بعد آج دنیا اسی حقیقت کی طرف آرہی ہے جو اسلام نے آج سے ساڑھے تیرہ سو سال پہلے آشکارا کی تھی اور ہر ملک میں شراب نوشی کے سدباب کے لئے سوسائیٹیاں بن رہی ہیں بلکہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں تو شراب کے خلاف ایک قانون بھی نافذ ہو چکا ہے جس کی تقلید میں بعض دوسرے ممالک میں بھی تحریک شروع ہے۔بنو اسد کی شرارت اور سر یہ ابوسلمہ محرم ۴ ہجری جنگ احد میں جو ہزیمت مسلمانوں کو پہنچی اس بنواسد سریہ نے قبائل عرب کو مسلمانوں کے خلاف سر اٹھانے پر آگے سے بھی زیادہ دلیر کر دیا۔چنانچہ ابھی جنگ اُحد پر زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا اور صحابہ ابھی اپنے زخموں کے علاج سے بھی پوری طرح فارغ نہ ہوئے تھے کہ محرم ۴ ہجری میں اچانک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ میں یہ اطلاع پہنچی کہ قبیلہ اسد کا رئیس طلیحہ بن خویلد اور اس کا بھائی سلمہ بن خویلدا اپنے علاقہ کے لوگوں کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف جنگ کرنے کے لئے آمادہ کر رہے ہیں۔اس خبر کے ابوداؤ د کتاب الاشربه : بخاری تفسیر سوره مائده ا: سورۃ مائده : ۹۱ بخاری ومسلم کتاب الاشر به : ابن سعد