سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 559 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 559

۵۵۹ کر میرے پاس لاؤ۔لوگ اٹھا کر لائے اور انہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ڈال دیا۔اس وقت زیاد میں کچھ کچھ جان تھی ، مگر وہ دم تو ڑ رہے تھے۔اس حالت میں انہوں نے بڑی کوشش کے ساتھ اپنا سر اٹھایا اور اپنا منہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں پر رکھ دیا اور اسی حالت میں جان دے دی لے ایک مسلمان خاتون جس کا نام ام عمارہ تھا تلوار ہاتھ میں لے کر مارتی کامتی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچی۔اس وقت عبد اللہ بن قسمئة آپ پر وار کرنے کے لئے آگے بڑھ رہا تھا۔مسلمان خاتون نے جھٹ آگے بڑھ کر وہ وار اپنے اوپر لے لیا اور پھر تلوار تول کر اس پر اپنا وار کیا، مگر وہ ایک دوہری زرہ پہنے ہوئے مرد تھا۔اور یہ ایک کمز ور عورت۔اس لئے وار کاری نہ پڑا۔اور ابن قمئة دڑا تا ہوا اور مسلمانوں کی صفوں کو چیرتا ہوا آگے آیا اور صحابہ کے روکتے روکتے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب پہنچ گیا اور پہنچتے ہی اس زور اور بے دردی کے ساتھ آپ کے چہرہ مبارک پر وار کیا کہ صحابہ کے دل دہل گئے۔جاں نثار طلحہ نے لپک کر اپنے ننگے ہاتھ پر لیا، مگر ابن قسمئة کی تلوار ان کے ہاتھ کو قلم کرتی ہوئی آپ کے پہلو پر پڑی۔زخم تو خدا کے فضل سے نہ آیا کیونکہ آپ نے اوپر تلے دوزر ہیں پہنی ہوئی تھیں اور وار کا زور بھی طلحہ کی جاں شاری سے کم ہو چکا تھا مگر اس صدمہ سے آپ چکر کھا کر نیچے گرے اور ابن قسمنة نے پھر خوشی کا نعرہ لگایا کہ میں نے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کو مارلیا ہے۔ابن قسمئة تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر وار کر کے خوشی کا نعرہ لگا تا ہوا پیچھے ہٹ گیا اور اپنے زعم میں یہ سمجھا کہ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مار لیا ہے ، مگر جو نہی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم گرے حضرت علی اور طلحہ نے فوراً آپ کو اوپر اٹھا لیا اور یہ معلوم کر کے مسلمانوں کے پژمردہ چہرے خوشی سے تمتما اٹھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم زندہ سلامت ہیں۔اب آہستہ آہستہ لڑائی کا زور بھی کم ہونا شروع ہو گیا۔کیونکہ ایک تو کفار اس اطمینان کی وجہ سے کچھ ڈھیلے پڑ گئے تھے کہ محمد رسول اللہ شہید ہو چکے ہیں اور اس لئے انہوں نے لڑائی کی طرف سے توجہ ہٹا کر کچھ تو اپنے مقتولین کی دیکھ بھال اور کچھ مسلمان شہیدوں کی لاشوں کی بے حرمتی کرنے کی طرف پھیر لی تھی۔اور دوسری طرف مسلمان بھی اکثر منتشر ہو چکے تھے۔جب قریش ذرا پیچھے ہٹ گئے اور جو مسلمان میدان میں موجود تھے وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچان کر آپ کے ارد گرد جمع ہو گئے تو آپ نے اپنے ان صحابہ کی جمعیت میں آہستہ آہستہ پہاڑ کے ابن ہشام و طبری : ابن سعد وابن ہشام ابن ہشام ابن ہشام