سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 552 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 552

۵۵۲ ابودجانہ نے خود بخود ہی اپنی تلوار نیچی کر لی اور وہاں سے ہٹ آیا۔زبیر روایت کرتے ہیں کہ اس موقع پر میں نے ابودجانہ سے پوچھا کہ یہ کیا ماجرا ہے کہ پہلے تم نے تلوار اٹھائی اور پھر نیچی کر لی۔اس نے کہا میرا دل اس بات پر تیار نہیں ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار ایک عورت پر چلاؤں اور عورت بھی وہ جس کے ساتھ اس وقت کوئی مرد محافظ نہیں۔زبیر کہتے ہیں۔میں نے اس وقت سمجھا کہ واقعی جو حق رسول اللہ کی تلوار کا ابودجانہ نے ادا کیا ہے وہ شاید میں نہ کر سکتا اور میرے دل کی خلش دور ہوگئی۔الغرض قریش کے علمبر دار کے مارے جانے کے بعد دونوں فوجیں آپس میں گتھم گتھا ہوگئیں اور سخت گھمسان کا رن پڑا اور ایک عرصہ تک دونوں طرف سے قتل وخون کا سلسلہ جاری رہا۔آخر آہستہ آہستہ اسلامی لشکر کے سامنے قریش کی فوج کے پاؤں اکھڑنے شروع ہوئے۔چنانچہ مشہور انگریز مؤرخ سرولیم میور لکھتے ہیں : مسلمانوں کے خطرناک حملوں کے سامنے مکی لشکر کے پاؤں اکھڑنے لگ گئے۔قریش کے رسالے نے کئی دفعہ یہ کوشش کی کہ اسلامی فوج کے بائیں طرف عقب سے ہو کر حملہ کریں۔مگر ہر دفعہ ان کو ان پچاس تیراندازوں کے تیر کھا کر پیچھے ہٹنا پڑا جومحد ( صلی اللہ علیہ وسلم) نے وہاں خاص طور پر متعین کئے ہوئے تھے۔مسلمانوں کی طرف سے اُحد کے میدان میں بھی وہی شجاعت و مردانگی اور موت و خطر سے وہی بے پروائی دکھائی گئی جو بدر کے موقع پر انہوں نے دکھائی تھی۔مکہ کے لشکر کی صفیں پھٹ پھٹ جاتی تھیں۔جب اپنی خود کے ساتھ سرخ رومال باند ھے ابودجانہ ان پر حملہ کرتا تھا اور اس تلوار کے ساتھ جو اسے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) نے دی تھی چاروں طرف گویا موت بکھیرتا جاتا تھا۔حمزہ اپنے سر پر شتر مرغ کے پروں کی کلغی لہراتا ہوا ہر جگہ نمایاں نظر آتا تھا۔علی اپنے لمبے اور سفید پھر یرے کے ساتھ اور ز بیراپنی شوخ رنگ کی چمکتی ہوئی زرد پگڑی کے ساتھ بہادر ان الیڈ کی طرح جہاں بھی جاتے تھے دشمن کے واسطے موت و پریشانی کا پیغام اپنے ساتھ لے جاتے تھے۔یہ وہ نظارے ہیں جہاں بعد کی اسلامی فتوحات ۲ ،، کے ہیر و تربیت پذیر ہوئے۔“۔غرض لڑائی ہوئی اور بہت سخت ہوئی اور کافی وقت تک لبہ کا پہلو مشکوک رہا لیکن آخر خدا کے فضل سے قریش کے پاؤں اکھڑنے لگے اور ان کے لشکر میں بدنظمی اور ابتری کے آثار ظاہر ہونے لگے۔قریش : ابن ہشام وزرقانی و نمیس لائف آف محمد صفحه ۲۵۲،۲۵۱