سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 540 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 540

۵۴۰ خانگی عیش و عشرت اور خانگی راحت و خوشی سے اس شخص کی نسبت بہت زیادہ دور ہوتا ہے جس کے مال اور جس کی توجہ اور جس کے وقت اور جس کی ظاہری محبت کی مالک صرف ایک عورت ہوتی ہے۔پھر یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ جو شخص عیش و عشرت کے خیال سے زیادہ شادیاں کرتا ہے، وہ لازماً اپنی بیویوں کی خوراک اور پوشش اور رہائش وغیرہ کا خاص خیال رکھتا ہے اور ان کے لئے ہر طرح کا سامان عیش وعشرت مہیا کرتا ہے۔مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں بالکل اس کے خلاف نظارہ نظر آتا ہے۔دور نہ جاؤ قرآن ہی کو کھول کر دیکھو کہ جو مسلم طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سوانح میں صحیح ترین صحیفہ ہے کہ ایک موقع پر جبکہ باہر سے اموال کی آمد آمد شروع ہو گئی تھی اور صحابہ کسی قدر خوشحال ہورہے تھے آپ کی بیویوں نے آپ سے عرض کیا کہ اب اس فراخی سے کچھ حصہ ہمیں بھی ملنا چاہئے اور اب تک جو تنگی کے دن کاٹے ہیں اس کا کچھ ازالہ ہونا چاہئے تو اس پر آپ نے فرمایا۔إن كُنتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيُوةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا فَتَعَالَيْنَ أُمَتِّعْكُنَّ وَأُسَرِحْكُنَّ سَرَاحًا جَمِيْلًا وَإِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ فَإِنَّ اللَّهَ اَعَدَّ لِلْمُحْسِلتِ مِنْكُنَّ أَجْرًا عَظِيمًاO یعنی اگر تم دنیا کی زندگی اور اس کے مال و متاع کو پسند کرتی ہو تو آؤ میں تمہیں دنیا کے اموال دے دیتا ہوں ،مگر اس صورت میں تم میری بیویاں نہیں رہ سکتیں ( کیونکہ میں اپنی زندگی کو دنیا کے اموال کی آلائش سے پاک رکھنا چاہتا ہوں ) اور اگر میری بیویاں رہنا چاہتی ہو تو محض خدا کی خاطر اور میرے منصب رسالت کی خاطر اور آخرت کی خاطر میرے ساتھ رہو۔اس صورت میں تم کو خدا کی طرف سے وہ عظیم الشان اجر ملے گا جو نیکو کاروں کے لئے مقدر ہے۔“ آپ کے اس فرمان کو سن کر سب ازواج نے بالا تفاق عرض کیا کہ ہمیں خدا اور اس کا رسول بس ہیں۔دنیا کے اموال در کار نہیں۔ج کیا اس زبر دست تاریخی شہادت کے ہوتے ہوئے یہ خیال کیا جاسکتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا تعدد ازدواج نعوذ باللہ عیش وعشرت کا ذریعہ تھا ؟ یقینا یقیناً ہرنئی بیوی جو آپ کے گھر آتی تھی وہ آپ کی خانگی تنگی کو زیادہ کرنے والی ہوتی تھی اور یہ آپ کی عظیم الشان قربانی کی روح تھی جس کی وجہ سے آپ نے اپنے دین اور اپنی قوم اور اپنے ملک کی خاطر ان بخاری کتاب التفسیر تفسیر سورۃ احزاب سورة احزاب : ۳۰،۲۹