سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 40
واقدی کے متعلق یہ مسلم ہے کہ وہ ایک بہت عالم انسان تھا اور اس کے تاریخی معلومات اتنے وسیع تھے کہ اس زمانہ میں کسی اور مؤرخ کے کم ہوں گے۔مگر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس کی وسعت معلومات نے ہی اس کے سر کو پھرا دیا تھا کہ وہ کسی بات کے متعلق لاعلمی کا اظہار کرنے کی بجائے خود اپنی طرف سے بات بنا کر بیان کر دیا کرتا تھا، چنانچہ اس کے متعلق ایک محقق کا یہ بہت اچھا مقولہ ہے کہ اگر واقدی سچا ہے تو بے نظیر ہے۔اور اگر جھوٹا ہے تو تب بھی عدیم المثال ہے۔مگر بد قسمتی سے واقدی کی یہی طلاقت لسان اور یہی وسعت علم ہمارے یورپین مصنفین کو اس کا دلدادہ بنا رہی ہے۔انہیں اس بات سے غرض نہیں کہ واقد کی سچا تھا یا جھوٹا۔اس کی عادت ایک محتاط محدث کی طرح تحقیق کر کے بات کرنے کی تھی یا کہ یونہی واہی تباہی کہتے جانے کی۔ان کو صرف اس بات سے غرض ہے کہ واقد کی جو کچھ کہتا ہے تفصیل سے کہتا ہے اور یوں کہتا ہے جیسے کوئی شخص پاس بیٹھا ہوا سب کچھ دیکھ رہا ہو۔اگر اس کا کوئی قول کسی صحیح اور مضبوط روایت کے خلاف ہے تو ہوا کرے اُن کے لئے سب روایتیں برابر ہیں اور سوائے اپنے دماغ کی شہادت کے اور کوئی شہادت قابل قبول نہیں۔مسلمان محققین نے جو اپنی عمریں کھپا کھپا کر ہر روایت سے بال کی کھال نکالی ہے اور ہر راوی کے صحیح صحیح حالات معلوم کر کے علم روایت کے لئے ایک سچا تر از و مہیا کر دیا ہے اہلِ مغرب کو اس سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔بہر حال ہم کسی کے قلم اور زبان کو تو روک نہیں سکتے مگر ہم بتا دینا چاہتے ہیں کہ واقدی کے متعلق ان مسلمان محققین نے جن کی دیانت و امانت اور اصابت رائے کو سب نے تسلیم کیا ہے کیا رائے دی ہے: نام رائے دہندہ الفاظ جن میں رائے کا اظہار کیا گیا ہے ترجمہ اردو امام احمد بن حنبل هُوَ كَذَّابٌ يُقَلِبُ واقدی ایک پرلے درجہ کا جھوٹ بولنے والا شخص علیہ الرحمة الحديث ۱۶۱ھ تا ۲۴۱ھ ہے جور وایتوں کو بگاڑ بگاڑ کر بیان کرتا ہے۔ابواحمد عبد اللہ بن محمد أَحَادِيْتُهُ غَيْرُ مَحْفُوظَةٍ واقدی کی روایتیں قابلِ اعتبار نہیں ہیں اور یہ المعروف بابن عدى وَالْبَلاءُ مِنْهُ خرابی خود اس کے نفس کی طرف سے ہے۔۲۷۷ھ تا ۳۲۵ھ تہذیب التہذیب حالات واقدی