سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 525 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 525

۵۲۵ ہو گئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کچھ عرصہ قیام کر کے واپس تشریف لے آئے۔بنوسلیم اور بنو غطفان کا اس طرح بار بار مدینہ پر حملہ کرنے کے ارادے سے جمع ہونا صاف ظاہر کر رہا ہے کہ صحرائے عرب کے یہ وحشی اور جنگجو قبائل اسلام کے سخت جانی دشمن تھے اور دن رات اس فکر میں رہتے تھے کہ کوئی موقع ملے تو مسلمانوں کو تباہ و برباد کر دیں۔ذرا مسلمانوں کی اس وقت کی نازک حالت کا اندازہ لگاؤ کہ ان پر اس زمانہ میں کیسے دن گزر رہے تھے۔ایک طرف مکہ کے قریش تھے جن کو اسلام کی عداوت اور جنگ بدر کی انتقامی روح نے اندھا کر رکھا تھا اور انہوں نے خانہ کعبہ کے پردوں کے ساتھ لپٹ لپٹ کر قسمیں کھائی ہوئی تھیں کہ جب تک مسلمانوں کو ملیا میٹ نہ کریں گے چین نہیں لیں گے۔دوسری طرف صحرائے عرب کے یہ خونخوار درندے تھے جن کو قریش کی انگیخت اور اسلام کی دشمنی نے مسلمانوں کے خون کی پیاس سے بے چین کر رکھا تھا۔چنانچہ دیکھو کہ بدر کے بعد چند ماہ کے اندر اندر آپ کو کتنی دفعہ بذات خودان وحشی قبائل عرب کے خونی ارادوں سے اپنے آپ کو محفوظ کرنے کے لئے سفر کرنا پڑا اور جیسا کہ سرولیم میور نے تصریح کی ہے یہ دن بھی بہت سخت گرمیوں کے دن تھے اور گرمی بھی عرب کے صحرا کی گرمی تھی۔اگر خدا کی خاص نصرت شامل حال نہ ہوتی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بیدار مغزی مسلمانوں کو ہر وقت ہوشیار اور چوکس نہ رکھتی اور آپ دشمن کی جمعیت کو چھاپہ مارنے سے قبل ہی منتشر کر دینے کی تدابیر اختیار نہ کرتے تو ان دنوں میں مسلمانوں کی تباہی و بربادی میں کوئی شک نہیں تھا اور یہ صرف بیرونی خطرات تھے۔باقی اندرونی خطرات بھی کسی طرح کم نہ تھے۔خود مدینہ کے اندر مسلمانوں سے ملے جلے رہنے والے منافقین موجود تھے جن کو مار آستین کہنا یقینا کوئی مبالغہ نہیں ہے۔ان کے علاوہ غدار اور خفیہ سازشوں کے عادی یہودی لوگ تھے جن کی عداوت کی گہرائی اور وسعت انتہا کو پہنچی ہوئی تھی۔اللہ اللہ ان ابتدائی مسلمانوں کے لئے یہ کیسی مصیبت کے دن تھے !! خودان کی زبان سے سنئے۔ابی بن کعب ایک مشہور صحابی روایت کرتے ہیں۔كَانُوا لَا يَبِيتُونَ إِلَّا فِى السّلَاحِ وَلَا يُصْبِهُونَ إِلَّا فِيْهِ وَكَانُوا يَقُولُونَ الْاتَرَوْنَ أَنَّا نَعِيْشُ حَتَّى نَبِيْتُ امِنِينَ مُطْمَئِنِينَ لَانَخَافُ إِلَّا اللَّهَ یعنی ” اس زمانہ میں صحابہ کا یہ حال تھا کہ وہ ڈر کے مارے راتوں کو ہتھیار لگا لگا کر سوتے تھے اور دن کو بھی ہر وقت مسلح رہتے تھے کہ کہیں ان پر کوئی اچانک حملہ نہ ہو جاوے اور وہ ایک حاكم و طبرانی بحواله لباب النقول زیر آیت وعدالله الذين امنوا منكم