سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 39
۳۹ ا صفة جزيرة العرب مصنفہ ابومحمد حسن بن احمد بن جغرافیہ عرب کی ابتدائی اور مستند کتاب ہے۔یعقوب الہمدانی المعروف بابن حائک المتوفی ۳۳۴ھ یہ وہ ذخیرہ ہے جو تاریخی لحاظ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت اور ابتدائی اسلامی تاریخ کا اصل ماخذ اور منبع ہے اور بعد کی سب کتابیں اسی منبع کی خوشہ چین ہیں، لیکن جیسا کہ او پر ظاہر کر دیا گیا ہے یہ سب کتب سیرت کی کتابیں نہیں اور نہ ہی صحیح معنی میں وہ سب کی سب تاریخ کی کتابیں ہیں مگر چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آغاز اسلام کی تاریخ کے ساتھ ان کتب کے مضامین کو ایک طبعی جوڑ ہے،اس لیے ہم نے انہیں سیرۃ کی کتابوں میں شامل کر لیا ہے۔باقی جیسا کہ اوپر اشارہ کر دیا گیا ہے خالص سیرت کی اصل ابتدائی کتا بیں جو اس وقت پائی جاتی ہیں ، وہ صرف چار ہیں۔اعنی سیرت ابن ہشام۔کتاب السیرت والمغازی لواقدی۔طبقات ابن سعد اور تاریخ طبری۔لیکن ان میں سے چونکہ واقدی مطعون و متروک ہے، اس لئے عملاً ما خذ صرف تین رہ جاتے ہیں۔یعنی ابن ہشام۔ابنِ سعد اور طبری۔اور اس میں شبہ نہیں کہ قرآن وحدیث کو چھوڑ کر سیرت کی حقیقی بنیا د نہیں تین کتابوں پر ہے۔واقدی کے متعلق ایک مختصر نوٹ واقدی کے متعلق ہمیں کچھ علیحدہ لکھنے کی ضرورت نہیں تھی لیکن بدقسمتی سے یورپین مصنفین نے اسے اتنا نوازا ہے کہ اس کی حقیقت کے اظہار کے لئے ایک علیحدہ نوٹ ضروری ہو گیا ہے۔جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے، واقدی کا زمانہ ۱۳۰ھ سے لے کر ۲۰۷ ھ تک تھا اور اس میں شبہ نہیں کہ زمانہ کے لحاظ سے وہ کسی دوسرے مؤرخ سے کم محفوظ پوزیشن میں نہیں تھا۔مگر یہ بات کسی شخص کے ذاتی صفات و عادات کا رُخ بدل نہیں سکتی اور حقیقت یہ ہے کہ واقدی اپنی وسعت علم کے باوجود ایک بالکل نا قابلِ اعتبار اور غیر ثقہ شخص تھا اور محققین نے اسے بالا تفاق جھوٹا اور دروغ گو قرار دیا ہے۔اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اس کی ساری روایتیں غلط اور جھوٹی ہوتی تھیں۔دُنیا میں جھوٹے سے جھوٹا انسان بھی ہمیشہ جھوٹ نہیں بولتا بلکہ حق یہ ہے کہ ایک جھوٹے آدمی کی بھی اکثر باتیں کچی اور واقعہ کے مطابق ہوتی ہیں۔لیکن دوسری طرف اس بات میں بھی ہرگز کوئی طبہ نہیں ہو سکتا کہ جو شخص جھوٹ بولنے کا عادی ہو اس کی کوئی بات بھی قابل حجت نہیں رہتی۔لے : اس مصنف کی ایک کتاب اکلیل بھی ہے جو دس جلدوں میں ہے اور قبیلہ میر کے حالات اور تاریخ یمن کے علاوہ بہت سے دوسرے مفید معلومات پر مشتمل ہے۔دیکھو کشف الظنون زمیر نام اکلیل۔