سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 521 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 521

۵۲۱ اہل وعیال کی جان بخشی کی جائے گی تو یہ ہر گز نہیں ہو سکتا تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس شرط کو قبول کر لینے کے بعد دوسرا طریق اختیار فرماتے۔البتہ بنو قینقاع کی طرف سے جان بخشی کی شرط کا پیش ہونا اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ خود ہی سمجھتے تھے کہ ان کی اصل سزا قتل ہی ہے، مگر وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے رحم کے طالب تھے اور یہ وعدہ لینے کے بعد اپنے قلعے کا دروزاہ کھولنا چاہتے تھے کہ ان کو قتل کی سزا نہیں دی جاوے گی لیکن گو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی رحیم انفسی سے انہیں معاف کر دیا تھا مگر معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی نظر میں یہ لوگ اپنی بداعمالی اور جرائم کی وجہ سے اب دنیا کے پردے پر زندہ چھوڑے جانے کے قابل نہیں تھے۔چنانچہ روایت آتی ہے کہ جس جگہ یہ لوگ جلا وطن ہو کر گئے تھے وہاں انہیں ابھی ایک سال کا عرصہ بھی نہ گزرا تھا کہ ان میں کوئی ایسی بیماری وغیرہ پڑی کہ سارے کا سارا قبیلہ اس کا شکار ہوکر پیوند خاک ہو گیا۔غزوہ بنو قینقاع کی تاریخ کے متعلق کسی قدر اختلاف ہے۔واقدی اور ابن سعد نے شوال ۲ ہجری بیان کی ہے اور متاخرین نے زیادہ تر اسی کی اتباع کی ہے، لیکن ابن اسحاق اور ابن ہشام نے اسے غزوہ سویق کے بعد رکھا ہے جو مسلمہ طور پر ماہ ذی الحجہ ۲ ہجری کے شروع میں ہوا تھا اور حدیث کی ایک روایت میں بھی یہ اشارہ ملتا ہے کہ غزوہ بنو قینقاع حضرت فاطمہ کے رخصتانہ کے بعد ہوا تھا کیونکہ اس روایت میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ حضرت علی نے اپنے ولیمہ کی دعوت کا خرچ مہیا کرنے کے لئے یہ تجویز کی تھی کہ بنو قینقاع کے ایک یہودی زرگر کو ساتھ لے کر جنگل میں جائیں اور وہاں سے اذخر گھاس لا کر مدینہ کے زرگروں کے پاس فروخت کریں۔جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ حضرت فاطمہ کے رخصتانہ کے وقت جو عام مؤرخین کے نزدیک ذوالحجہ ۲ ہجری میں ہوا تھا ابھی تک بنو قینقاع مدینہ میں ہی تھے۔ان وجوہات کی بنا پر میں نے غزوہ بنو قینقاع کو غزوہ سویق اور حضرت فاطمہ کے رخصتا نہ کے بعد اواخر ۲ ہجری میں رکھا ہے۔واللہ اعلم۔اس موقع پر یہ ذکر بھی خالی از فائدہ نہ ہو گا کہ غزوہ بنو قینقاع کا سبب بیان کرتے ہوئے مسٹر مار گولیس نے اپنی طرف سے ایک عجیب و غریب بات بنا کر لکھی ہے جس کا قطعا کسی روایت میں اشارہ تک نہیں آتا۔بخاری میں ایک روایت آتی ہے کہ حضرت حمزہ نے شراب کے نشہ میں (اس وقت تک ابھی شراب حرام نہیں ہوئی تھی ) حضرت علیؓ کے وہ اونٹ مار دئے تھے جو انہیں جنگ بدر کی غنیمت میں حاصل زرقانی جلد اصفحه ۴۵۸ بخاری کتاب المغازی حالات غزوہ بدر